پیر‬‮   19   فروری‬‮   2018

نظامِ صلوٰۃ کا نفاذ ترغیب سے کرنا چاہتے ہیں،سردار یوسف


اسلام آباد(نامہ نگار) وفاقی دارالحکومت کے تاجروں اورعلماء نے مطالبہ کیاہے کہ سکولوں، کالجوں، درسگاہوں ، بینکوں اور سرکاری اداروں میں وقفہ برائے نماز ہونا چاہیئے۔ نمازِ جمعہ(باقی صفحہ6بقیہ نمبر) کے وقت تفریح گاہیں ، ہوٹل بند ہونے چاہئیں جبکہ نمازِ جمعہ کی بہتر ادائیگی کیلئے جمعہ کی چھٹی کو بحال کیا جائے۔ تمام نیوز چینل کمیٹی کے مقررہ اوقات میں اذان نشر کرنے کا اہتمام کریں۔ نظامِ صلوٰۃ کو دوسرے شہروں میں جاری کیا جائے یہ بات وفاقی وزیرمذہبی امور سردار محمد یوسف نے آج وزارت میں نظامِ صلوٰۃ پر کمیٹی اراکین، علما کرام اور انجمن تاجران کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت کی۔ تفصیلات کے مطابق اس اجلاس میں وزارتِ داخلہ، ضلعی انتظامیہ، محکمہ اوقاف، سول سوسائٹی اور چیئرمین یونین کونسلوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں نظامِ صلوٰۃ کیلنڈر پر عمل درآمد کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت، مسائل اور تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اسلامی معاشرے میں نظامِ صلوٰۃ جاری و ساری رہے۔ تمام مسالک کے علما ء کا اذان اور نماز کے یکساں اوقات پر متفق ہونا بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی 615 میں سے 606 مساجد نے تمام مسالک کے علماء کا تیار کردہ یکساں نظامِ صلوٰۃ کیلنڈر سے اتفاق کر لیا ہے۔ معاشرے میں اسلامی شعار کی ترویج میں سہولت دینا حکومت کا کام ہے۔ نظامِ صلوٰۃ کا نفاذ جبر سے نہیں بلکہ ترغیب سے کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نظامِ صلوٰۃ کمیٹی کو اسلام آباد کی 50 یونین کونسلوں کی سطح تک لے جائیں گے۔ تاجر برادری کے نمائندوں نے وفاقی وزیر کو یقین دلایا کہ جی ایٹ اور آئی نائن تجارتی مراکز میں نظامِ صلوٰۃ پر اسی ہفتے عمل درآمد شروع ہوجائے گا جبکہ دیگر سے مشاورت کی جائے گی۔ 

© Copyright 2018. All right Reserved