پیر‬‮   19   فروری‬‮   2018

پارلیمنٹ میں جواب جمع کرانے کے باوجود،خواتین مدرسہ کے پلاٹ سے وش یونیورسٹی کا قبضہ ختم نہ کرایا جا سکا

پلاٹ پر بننے والی خواتین وش یونیورسٹی کیمپس جامعہ تفہیم القرآن کے انتظامات سینیٹر عثمان ابراہیم اور میاں اسلم کے پاس ہیں،ذرائع

 

سینٹ کمیٹی نے پلاٹ کو واگزا ر کرانے کی ہدایت کی تھی ،میاں اسلم کی سفارش پر سی ڈی اے نے کارروائی روک رکھی ہے
اسلام آباد ( ندیم چو ہد ری سے)رفاہ انٹرنیشنل ( وش ) یونیورسٹی کے غیر قانونی پلاٹ پر قبضہ ختم کرانے کے لئے پارلیمنٹ میں جمع کرائے گئے جواب کے باوجود تاحال پلاٹ خالی نہ کرایا جا سکا ، رفاہ انٹرنیشنل (وش) یونیورسٹی کے پلاٹ کو جعل سازی سے حاصل کئے جانے کے بعد خواتین کا مدرسہ بنانے کی بجائے یونیورسٹی کا کمپس قائم کر دیا گیا ، جس پر وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ میں جواب جمع کروایا کہ یونیورسٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اسے ختم کرنے کے احکامات دیئے جا چکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سابق ایم این اے میاں اسلم کی جانب سے مذکورہ پلاٹ کو خالی نہ کرائے جانے کا دباؤ ہے ،یہ پلاٹ جی سیون تھری ٹو اسلام آباد کے جامعہ تفہیم القرآن کے مہتمم کی درخواست پر مدرسہ برائے خواتین بنانے کے لئے جاری کیا گیا تھا ، جس کو جعل سازی سے دوسرے گروپ نے حاصل کر لیا جس کی درخواست سی ڈی اے کو بھی دی گئی لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہوا ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے مذکورہ پلاٹ کو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے واگزا ر کرانے کی ہدایت کی تھی لیکن تاحال یہ پلاٹ واگزرا نہیں کرایا جا سکا ، ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر بننے والی خواتین وش یونیورسٹی کیمپس جامعہ تفہیم القرآن کے انتظامات سینٹر عثمان ابراہیم اور سابق ایم این اے میاں محمد اسلم کے پاس ہیں ۔میاں اسلم کی سفارش پر سی ڈی اے نے اس کیمپس کے خلاف کارروائی کو روک رکھا ہے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ پلاٹ کے لیے درخواست قاری ایوب اعوان نے صدر ضیاالحق کو 1982 میں دی تھی جو کہ جعل سازی سے وش یونیورسٹی انتظامیہ کے نام کر دیا گیا ہے ۔ اس حوالہ سے رفاہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پلاٹ وش یونیورسٹی کی ملکیت ہے ان کو صرف کیمپس کے انتظامات چلانے کے لئے اختیارات ہیں ۔پلاٹ کے ذمہ دار وش یونیورسٹی انتظامیہ ہے ۔ 

© Copyright 2018. All right Reserved