جمعرات‬‮   22   فروری‬‮   2018

کراچی‘ جیل میں قیدی کی خواہش پر بیٹی کی شادی


نکاح ہوا،سپرنٹنڈنٹ نے مٹھائی بانٹی،چائے پارٹی کی،دولہا دلہن کو ٹوپی اجرک دی

قیدیوں کا رقص،بیٹی کو خود رخصت کرنے پر خوش ہوں،قیدی ارشد،جیلر سے اظہار تشکر 

ملیر ( نامہ نگار) ملک کی تاریخ میں پہلی بار ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں302کے قیدی محمد ارشد کی بیٹی عروسہ کی شادی کی تقریب ہوئی، تقریب مٰیں جیل کے اہلکاروں اور قیدیوں نے)
بڑی تعداد میں شرکت کی،دلہا دلہن کو ملیر جیل لایا گیا ، جہاں نکاح کی رسم ادا کی گئی جبکہ قیدیوں اور پولیس اہلکاروں نے شادی کے گانوں پر رقص کرکے خوشی کا اظہار کیا، جیل سپرنٹینڈنٹ ملیر محمد حسن سہتو کی جانب سے دلہا کو سندھی ٹوپی اور دلہن کو اجرک کا تحفہ پیش کیا، تمام قیدیوں اور اہلکاروں میں مٹھائی بانٹ کر مبارکباد دی ، اس موقع پر مولوی عبدالحق نے نکاح کے بعد اجتماعی کرائی، اس موقع پر جیل سپرنٹینڈنٹ کا کہنا تھا کہ قیدی محمد ارشد نے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے نکاح کرنے کی درخواست دی تھی، جس پر جیل کے اعلیٰ عملداروں نے نکاح کی اجازت دی، میں نے انسانیت کے ناتے قیدی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر نہ صرف نکاح کرایا بلکہ شادی کی تقریب کا بندوبست کیا ہے، جس میں قیدیوں اور اہلکار وں نے شامل ہوکر خوشی اور رقص کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ جیل میں قید تمام قیدی ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں،انہوں نے کہاکہ میں نے دلہا اور دلہن کو تحائف بھی دیے، اپنی طرف سے مٹھائی اور چائے پارٹی کرکے قیدیوں کی خوشی میں شامل ہوا ہوں،دوسری جانب قیدی محمد ارشد کا کہنا تھا کہ خوشی اس بات کی ہے کہ اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کر رہا ہوں ،کاش میں جیل سے باہر ہوتا تو مزید اچھے طریقے سے اپنی بیٹی کو رخصت کرتا، قیدی محمد ارشد نے کہاکہ میں جیل سپرنٹینڈنٹ محمد حسن سہتو کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری بیٹی کی شادی جیل میں کرانے کی اجازت دی اور تمام انتظامات کیے،جیل سپرنٹینڈنٹ ایک فرشتہ صفت انسان ہے، ان کو دعا کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔

© Copyright 2018. All right Reserved