جمعرات‬‮   22   فروری‬‮   2018

عاصمہ جہانگیر کا مخلوط جنازہ، نماز مودودی کے صاحبزادے نے پڑھائی، فارم ہائوس میں تدفین

لاہور(کورٹ رپورٹر) انسانی حقوق  کمیشن پاکستان کی شریک بانی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر  کو بیدیاں روڈ پر  انکے ذاتی فارم ہاس میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔  اس سے پہلے منگل کی سہ پہر تین بجے عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ قذافی سٹیڈیم کے باہر ادا کی گئی ۔ نماز جنازہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے صاحب زادے سید حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی۔ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ یہاں پہنچے تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک وفد بھی اے این پی کے رہنما افتخار حسین کی قیادت میں خاص طور پر نماز جنازہ میں شرکت کے لیے لاہور پہنچا تھا۔  عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ خواتین کی بڑی تعداد نے بھی پڑھی۔نماز جنازہ سے پہلے خواتین کو آخری دیدار کروانے کیلئے میت رکھی گئی۔ شہریوں کی بڑی تعداد 12بجے سے ہی قذافی سٹیڈیم پہنچنا شروع ہو گئی۔ عاصمہ جہانگیر کی میت لائی گئی تو وکلاء اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے عاصمہ جہانگیر کی خدمات کے اعتراف میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر کئی جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے اور لوگ عاصمہ جہانگیر کو یاد کر کے روتے رہے۔ نماز جنازہ میں چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی،  وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، سابق وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ، سینیٹر اعتزاز احسن، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی، جسٹس(ر)خلیل الرحمان رمدے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد یاور علی ، جسٹس انوار الحق ، جسٹس شہرام سرور چودھری ، جسٹس شاہد بلال حسن ، جسٹس صداقت علی خان ، جسٹس ساجد محمود سیٹھی ، جسٹس شاہد جمیل خان ، جسٹس فیصل زمان خان ، جسٹس طارق سلیم شیخ ، سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی ، اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمان ، سابق گورنر پنجاب شاہد حامد ، پیپلز پارٹی کے رہنما منظور احمد وٹو ، فیصل میر ، کمشنر لاہور ڈویژن عبداللہ خان سنبل ، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار ، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شیخ انوار الحق ، سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب احمد باجوہ ،غلام شبیر ،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضی ، اعظم نذیر تارڑ ،سابق چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار حفیظ الرحمان چودھری ، شفقت محمود چوہان ، صفدر شاہین پیرزادہ، عابد ساقی ،سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون ، سینئر صحافی حامد میر ،شکیل اعوان ، عبداللہ ملک ، فیصل میر ، امتیاز عالم ، علی ہدی کوثر ، یاسین سوہل ، ظفر اللہ نعیم ، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ذوالفقارچودھری ،نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بارراشد لودھی ،سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار عامر سعید راں، سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل برہان معظم ملک ، سید کلب حسین ، یاسین آزاد ، جسٹس(ر)شاہد بخاری ، صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم احمد خورشید ، ظفر اقبال کلانوری ایڈووکیٹ ، سابق ایڈووکیٹ جنرل مصطفی رمدے ، غلام سرور نہنگ ، سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر)امین وینس ، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف  مہ ناز رفیع، ، علی احمد کرد ، ، افراسیاب خٹک ، اکرم شیخ ایڈووکیٹ  اور طاہر نصر اللہ وڑائچ سمیت پاکستان بار کونسل و سپریم کورٹ بار، لاہور ہائیکورٹ بار کے عہدیداروں، قانون دانوں، اعلی سول بیوروکریٹ، سیاسی، سماجی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں این جی اوز ، سول سوسائٹی اور شعبہ وکالت سمیت مرحومہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد عاصمہ جہانگیر کیلئے دعا کی گئی۔  قبل ازیں ان کا جسد خاکی مقامی ہسپتال کے سرد خانے سے ان کی رہائش گاہ حالی روڈ گلبرگ لایا گیا جہاں غسل دیا گیا جس کے بعد ایمبولینس کے ذریعے جسد خاکی کو نشتر سپورٹس کمپلیکس قذافی سٹیڈیم لایا گیا۔اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ قذافی سٹیڈیم آنے والے تمام راستوں کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور نماز جنازہ میں آنے والوں کو ایک ہی راستے سے تلاشی لیے جانے کے بعد شرکت کی اجازت دی گئی ۔ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آنے والوں کو واک تھرو گیٹ سے گزارا گیا۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ایمبولینس کے ذریعے عاصمہ جہانگیر کے جسد خاکی کو بیدیاں روڈ پر واقع ان کے فارم ہائوس لے جایا گیا جہاں انہیں سپرد خاک کردیاگیا ۔ مختلف شخصیات کی جانب سے انکی قبر پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں۔ عاصمہ جہانگیر کی رسم سوئم آج 121ای حالی روڈ گلبرگ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر ادا کی جائے گی۔جبکہ امریکہ نے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا ہے۔
عاصمہ تدفین 
 
 
 
 
 
 
© Copyright 2018. All right Reserved