بدھ‬‮   15   اگست‬‮   2018

عاصمہ جہانگیر کی رسم قل ادا ، شہباز شریف کی اہل خانہ سے تعزیت


عورتوں کا مردوں کے آگے اور برابر کھڑا ہونا خلاف شریعت، چار کے بجائے تین تکبیرات سے نماز جنازہ نامکمل رہی، مفتی کریم

عورتوں کیلئے پردے کا انتظام کرنا ہو گا‘علامہ راغب حسین نعیمی، جنازہ فرض نماز نہیں، مفتی عابد رضا قادری

مخلوط نماز جنازہ سے متعلق مفتی محمد ابو بکر، حافظ عبدالغفارروپڑی، مولانا امیرحمزہ اور مفتی شاہد کی شریعت کی روشنی میں آراء

لاہور(وقائع نگار) مخلوط نماز جنازہ پر علماء کرام اور مفتیان عظام نے کہا ہے کہ مخلوط نمازجنازہ کی شریعت اجازت نہیں 
دیتی،ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عورتوں اور مردوں کو نماز پڑھنے سے اسلام نے منع کیا ہے اس کی قطعاْ اجازت نہیں تاہم اگر عورتوں کا علیحدہ سے انتظام ہو تو عورت نماز جنازہ ادا کر سکتی ہے ،پاکستان کی تاریخ میں لاہور میں ہونے والے مخلوط نماز جنازہ نے اسلام کا مذاق اڑایا ہے ، بلکہ یہ شعائر اسلام کامذاق ہے، عالمی مجلس ختم نبوت کے مفتی محمد ابو بکر نے کہا ہے کہ عورت نماز جنازہ ادا کرسکتی ہے لیکن مخلوط ادا کرنے کی اجازت شریعت نے نہیں دی اس بارے میں شریعت نے واضح حکم دیا ہے کہ عورت اور مرد اکٹھے نماز ادا نہیں کر سکتے، بلکہ میاں بیوی کو بھی مرد کے برابر کھڑے ہو کر نماز کی ادائیگی سے شریعت نے روک دیا ہے، تاہم لاہور نے ہونے والے مخلوط نماز جنازہ میں تکبیرات ہی پوری نہیں ادا کی گئی تو اس کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں شریعت کے احکامات بالکل واضح ہیں۔ جماعت اہلحدیث پاکستان کے امیر حافظ عبدالغفارروپڑی نے کہا ہے کہ شریعت اسلام نے عورتوں کے اختلاط کو ویسے ہی منع کردیا ہے کیونکہ اختلاط سے بے حیائی پھیلتی ہے اور اسلام بے حیائی سے سختی سے روکتا ہے، لاہور میں ہونے والا مخلوط نماز جنازہ شرعی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔تحریک لبیک پاکستان کے مفتی محمد عابد رضا قادری نے کہا ہے کہ نماز جنازہ کا عمل فرض کفایہ ہے اور علاقے کے چند افراد بھی ادا کردیں تو پورے علاقے کی طرف سے ادا جاتی ہے ، یہ تو نماز جنازہ ہے اسلام نے سوائے محرم کے مخلوط تقریبات سے سختی سے منع کیا ہے ۔ مخلوط نماز جنازہ میں بے پردگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اسلام نے بے پردگی سے منع کیا ہے، انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ تو ہوگئی ہے لیکن مخلوط ادائیگی سے اسلام کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ جماعۃ الدعوہ کے رہنما مولانا امیرحمزہ نے کہا ہے کہ لاہور میں ادا کی جانے والی مخلوط نماز جنازہ کی ادائیگی ء اسلام کا مذاق اڑایا گیا ہے،اور شعائراسلام کا مذاق احکام خداوندی سے بغاوت ہے شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ علامہ راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ نماز جنازہ فرض ہے نہ واجب یہ فرض کفایہ ہے وہ بھی مردوں کے لئے اگر عورتوں نے نماز جنازہ ادا کرنی ہو تو ان کے لئے با پردہ انتظام کیا جائے گا،مخلوط کی اجازت شریعت نے نہیں دی، مخلوط نماز جنازہ خلاف شرع ہے۔جامعہ اشرفیہ کے مفتی شاہد نے کہا ہے کہ لاہور میں ہونے والا مخلوط نماز جنازہ خلاف شرع ہے ایسی مثال نہ حضور ﷺ کے دور میں ملتی ہے اور نہ ہی صحابہ کے دور میں یہ اسلام اور پاکستان کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ مفتی محمد کریم نے کہا ہے کہ میری اطلاع کے مطابق نماز جنازہ کی تکبیرات ہی تین ہوئی ہیں، نماز جنازہ کی چار تکبیرات ہیں جو کہ چار رکعات کے برابر ہیں اور اگر ایک رکعات کم پڑی جائے تو نماز نامکمل ہے، اور مخلوط نماز کی شریعت نے بالکل اجازت نہیں دی، جو نماز جنازہ کی ادائیگی لاہور میں ہوئی ہے اس میں عورتیں مردوں کے آگے اور برابر کھڑی ہیں جو کہ خلاف شرع ہے، اور جو کام خلاف شروع ہو اسکی حیثیت کا اندازہ خود بخود ہی ہو جاتا ہے


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved