اتوار‬‮   18   فروری‬‮   2018

ادویات قیمتیں کیس ،چیف جسٹس حکم امتناع دینے پر برہم

اسلام آباد ( نیوز رپورٹر ) عدالت عظمی میں جان بچانے والی ادویات کی)
مہنگے داموں فروخت اور رجسٹریشن کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکم امتناع لیکر سات سات سال تک بیٹھ جاتے ہیں، اس طرح کام کیسے چلے گا ؟۔جس نے ہائی کورٹ میں کام نہیں کرنا وظیفہ اور پنشن لے اور گھر جائے،، عدالت نے سندھ ہائی کورٹ سے ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے احکامات کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تمام ترمقدمات ریکارڈ طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہدایات جاری کریں گے کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ اس نوعیت کے مقدمات کے لئے ایک خصوصی بنچ تشکیل دین جوکہ 15روز میں حکم امتناع کی تمام درخواستوں پر فیصلہ جاری کرے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو ادویہ ساز کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان اور کمال اظفر اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان(ڈریپ)کے سربراہ پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ڈریپ کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ ڈریپ میں اب تبدیلی آگئی ہے ،اگر آپ کو رات 12بجے بھی رجسٹرار سپریم کورٹ کا فون آئے تو آپ کو یہاں پر آجانا چاہیئے، دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ ادویہ سازکمپنیوں کی جانب سے ڈریپ سے متعلق مقدمات میں سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے لیا جاتا ہے،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آئی ایم سوری ،سندھ ہائی کورٹ حکم امتناع پر حکم امتناع دیئے جارہی ہے ،ہم تمام مقدمات کی فائلیں منگوا رہے ہیں، مقدمات کو لمبے عرصے تک نہیں چلنے دیں گے، سندھ ہائی کورٹ میں کسی کو خدا کا خوف بھی ہے، اگر مقدمے کی 100فائلیں ہیں تو بھی ہم کیس کا جائزہ لیں گے، ہمیں سندھ کی عدالتوں میں ڈریپ سے متعلق زیر سماعت تمام مقدمات کی فائلیں فراہم کی جائیں، سندھ ہائی کورٹ آنکھیں بند کرکے حکم امتناع دے رہی ہے، بڑے بڑے وکیل ججوں کے چیمبر میں جا کر حکم امتناع لے آتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کا کمال یہ ہے کہ قانون ہی کو معطل کردیا ہے، سندھ ہائی کورٹ 15روز میں حکم امتناع کی درخواستوں پر فیصلے کرے، اگر ہائی کورٹ فیصلہ نہیں کرے گی تو ہم حکم امتناع واپس لے لیں گے،چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ حکم امنتاع سے قانون کو معطل کرنا قابل قبول نہیں ہے، صحت اور ادویات کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے چاہیے،اس موقع پر ادویات کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی کمپنی عوام کو 50فیصد کم قیمت پر ادویات دے رہی ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں تبدیلی آگئی ہے اور ریگولیٹر کیا کرے جب عدالت حکم امتناع دے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ جس نے ہائی کورٹ میں کام نہیں کرنا وظیفہ اور پنشن لے اور گھر جائے، اس سسٹم نے چلنا ہے اور لوگوں کو انصاف ملنا ہے،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا کوئی اختیار استعمال نہیں کریں گے ، جس کا آئین یا قانون اجازت نہ دے، ہوسکتا ہے مقدمات کا جائزہ لے کر واپس ہائی کورٹ بھیج دیں،جان بچانے والی ادویات مہنگے داموں فروخت نہیں ہونی چاہیے، ادویات کی رجسٹریشن کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، بعد ازاں عدالت نے مذکورہ بالا حکم کے ساتھ ساتھ کیس کے تمام فریقین کو نوٹسزجاری کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

© Copyright 2018. All right Reserved