بدھ‬‮   15   اگست‬‮   2018

آزادی کشمیر میں بھی ختم نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج قرار

تاریخی فیصلہ ہے،حضرت محمد نے اپنے آخری نبیؐ ہونے کا درس دیا آپ کی سنت طیبہ اور تعلیمات قیامت تک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں

کشمیرہمارے ایمان کا حصہ اورہمارا اوڑھنا بچھونا اگرچہ لہو لہان ہے اور ہندوستانی مظالم حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں ،مسعود خان

اسلام آباد(نامہ نگار)صدرآزادجموں وکشمیر سردارمسعود خان نے آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین (بارہویں ترمیم) ایکٹ2018ء کی توثیق کی ہے جس کے مطابق سیکشن IIایکٹ 1974 (VIII) میں ترمیم سے مسلم کی تعریف کی گئی ہے جس کے تحت مسلم کا مطلب ایسا شخص جو اتحاد اور اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر یقین رکھتا ہو اور حضرت محمدؐ کے آخری نبی اور رسول ہونے پر مطلق یقین رکھتا ہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا اور اگر کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے یا اپنے آپ کو نبی ہونا ظاہر کرے تو اس کے جھوٹا ہونے پر یقین رکھتا ہو۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان کے دستخط ثبت ہونے کے بعد اب یہ قانون بن گیا ہے۔ صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ اس ترمیمی ایکٹ پر ان کی توثیق کے بعد ختم نبوت کا یہ بل "سنگ میل"ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت کا یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ طویل عرصہ سے التواء میں رہا ہے اور اب وزیر اعظم آزاد کشمیر ، سپیکر قانون ساز اسمبلی اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے ختم نبوت کا یہ قانون بنا کر ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے جس پر وہ مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ حضرت محمد ؐ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے اپنے آخری نبی ہونے کا درس دیا اور آپ کی سنت طیبہ اور تعلیمات قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے نہ صرف کافی ہیں بلکہ ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صدر آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ جموں وکشمیر پاکستان اور پوری امت مسلمہ کی یہ خوش بختی ہے کہ انہیں عظیم رہنماء حضرت محمدؐ کا امتی ہونے کا شرف حاصل ہے اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر نے مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں پر اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم اور ان کو بھارتی تسلط سے آزادی کی دعا کی۔ دریں اثناء صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے یہ ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے اگرچہ کشمیر لہو لہان ہے اور ہندوستانی مظالم حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے وہ پوری ہمت اور جذبے سے اپنی حق خود ارادیت کے حصول کی تحریک کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں ان کے عزم اور حوصلے میں کوئی لغزش نہیں آئی ہم حریت کانفرنس کے رہنماؤں کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے ایک وفد سے ایوان صدر کشمیر ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا ہے۔ وفد کی قیادت حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء و چیئرمین جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ ظفراکبر بٹ کررہے تھے۔ صدر آزاد کشمیر نے کشمیری رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مغربی دنیا ہندوستان سے معاشی اور تجارتی معاہدوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر مصلحت کا شکار ہے وہ سچ کو سچ کہنے کے بجائے اور ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر کے نہتے لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم رکھے جانے سے روکنے اور باز رکھنے سے قاصر ہے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آج ہندوستان امریکہ اور مغربی دنیا کو یہ جھانسہ دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ چین کا راستہ روک رہا ہے حالانکہ یہ یکسر مکاری اور فریب کاری ہے۔ صدر نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ایک سابق ہندوستانی وزیر چندھم برھم اور منی شنکرآیار نے بھی مودی کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کو اپنی کشمیر پالیسی ترک کرنی ہوگی اور کشمیریوں سے مذاکرات کرنے ہونگے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ انہوں نے برطانوی ہاؤس آف لارڈ میں بھی کھڑے ہو کر یہ کہا کہ ہم کشمیری آزادی کی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں اور یہ حق ہمیں اقوام عالم نے حق خودارادیت کی صورت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے دے رکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ اقوام عالم بالخصوص اہل مغرب اور امریکہ کو یہ باور کرانا ہو گاکہ مسئلہ کشمیر کا حل بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے اور تارکین وطن کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہوگا۔ 


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved