بدھ‬‮   15   اگست‬‮   2018

نوازشریف کے موٹروے سے جانے کافیصلہ سینئرقیادت نے کیا، نثار


میٹنگ مری میں ہوئی،جہازسے جانے کامشورہ دینے والے کا نوازشریف ہی بتاسکتے ہیں

اسلام آباد (وقائع نگار )سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف کا بذریعہ موٹروے لاہور جانے کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کی میٹنگمیں طے ہوا جس میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت پارٹی کے 10/11سینئر ترین ارکان موجود تھے، یہ میٹنگ مری میں ہوئی ،جہاں تک کسی کا میاں نواز شریف کو جہاز پر جانے کامشورہ دینے والے کا تعلق ہے اس کے بارے میں تو میاں نواز شریف ہی بتا سکتے ہیں مگر میٹنگ کے دوران کسی نے بھی یہ مشورہ نہیں دیا تھا، بہتر ہے کہ اس شخص کی بھی نشاندہی کر دی جائے تا کہ اس سارے قصے میں غیر ضروری ڈرامائی عنصر ذائل ہو جائیں۔بدھ کوترجمان چوہدری نثار علی خان نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ آج کل کے ماحول میں چونکہ ہر سیاسی بیان بڑی خبر بن جاتا ہے اور ہر خبر کو سچ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اس لئے جیو میں نشر کردہ کل کی خبر کی وضاحت ضروری ہے، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا بذریعہ موٹروے لاہور جانے کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کی میٹنگ میں طے ہوا، جس میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت پارٹی کے 10/11سینئر ترین ارکان موجود تھے، یہ میٹنگ مری میں ہوئی اور ایک دو ارکان کو چھوڑ کر باقی سب کا فیصلہ تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے میاں نواز شریف موٹروے کے ذریعے جائیں اور ان کا استقبال ہر انٹرچینج پر کیا جائے اور اختتامی استقبال لاہور میں داخلے کے بعد کیا جائے۔ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ ریکارڈ پر ہے اور مری کی میٹنگ کے بعد اخبارات میں شائع بھی ہو چکا ہے، اس فیصلے میں تبدیلی کسی سیاست دان کے مشورے سے نہیں بلکہ اسی وقت ہوئی جب مجیب الرحمان شامی صاحب کی سربراہی میں میڈیا کے ایک وفد نے میاں نواز شریف سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی اور انہیں جی ٹی روڈ سے جانے کا مشورہ دیا، اس پر میاں نواز شریف نے چوہدری نثار علی خان کو کہا کہ وہ ٹیلیفون پر میاں شہباز شریف سے رابطہ کریں اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود انہیں اس بات پر قائل کریں کہ پروگرام جی ٹی روڈ پر یہ ہونا چاہیے، بھری محفل میں چوہدری نثار علی خان اٹھ کر گئے اور میاں شہباز شریف کو اس فیصلے سے آگاہ کیا اور واپس آ کر سب کے سامنے میاں نواز شریف کو اس بات سے آگاہ کیا کہ میاں شہباز شریف اس فیصلے سے متفق ہیں، اس سیدھے سادے عمل کو میڈیا کلپ کے ذریعے غلط رنگ دینا بدقسمتی ہے۔ترجمان نے کہاکہ جہاں تک کسی کا میاں نواز شریف کو جہاز پر جانے کامشورہ دینے والے کا تعلق ہے اس کے بارے میں تو میاں نواز شریف ہی بتا سکتے ہیں مگر میٹنگ کے دوران کسی نے بھی یہ مشورہ نہیں دیا تھا، بہتر ہے کہ اس شخص کی بھی نشاندہی کر دی جائے تا کہ اس سارے قصے میں غیر ضروری ڈرامائی عنصر ذائل ہو جائیں


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved