اتوار‬‮   23   ستمبر‬‮   2018

زرداری عمران چابی کے کھلونے جس کے آگے سجدہ کیا اس کی کیا خدمات ہیں ،قد کاٹھ کتنا ہے سینٹ الیکشن میں تماشا لگا نواز شریف


اسلام آباد(وقائع نگار ، خصوصی نیوز رپورٹر ) وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ ن کا صدر منتخب کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا گیا۔ پارٹی صدر کے عہدے کے لیے منگل کی صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کاغذات نامزدگی وصول کرنے کا وقت مقرر تھا تاہم شہباز شریف کے علاوہ کسی دوسرے ممبر نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائی۔ شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی پر چاروں صوبوں کے تائید و تجویز کنندگان کے دستخط موجود تھے، بعد ازاں جنرل کونسل اجلاس میں باضابطہ طور پر ان کے صدر بننے کا اعلان کردیا گیا۔مسلم لیگ ن جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب صدر شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے لیڈر نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، یقین ہے انصاف ضرور ملے گا اور اس زیادتی کا ازالہ ہو گا، کیسی بھی سازبازہو اور کتنے ہی گٹھ جوڑ ہوں نیازی اور زرداری ہم پر بھاری نہیں ہو سکتے، نواز شریف جیسے عظیم قائد کی جگہ منصب سنبھالنا اہم لیکن بہت مشکل مرحلہ ہے، تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس گزشتہ روزکنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بلامقابلہ صدر منتخب کیا گیامسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق، وفاقی وزراء ، مسلم لیگ (ن) کے سینئر قائدین ، مجلس عاملہ کے ممبران اور پارٹی ورکرز کی بڑی تعداد کنونشن سینٹر میں موجود تھی وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے کے بعد پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ امر نہایت اعزاز کاباعث ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی طرف سے مجھے پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کرنے کے بعد آج مجھے پارٹی جنرل کونسل کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کا باقاعدہ صدرمنتخب کیا گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ میری زندگی کا ایک اہم لیکن مشکل مرحلہ ہے ۔آپ خود اندازہ کریں کہ حالات کے تقاضوں کے تحت مجھے ایک ایسی عظیم شخصیت کے منصب پر اپنے فرائض سرانجام دینے کیلئے کہا جارہا ہے جس کی طرف میں نے گزشتہ30برس سے زائد اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ رہنمائی اور سرپرستی کیلئے دیکھا ہے ۔مجھے اس امر کا پورا احساس ہے اورمیں بلا خوف و تردید اس بات کابرملااظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ سمیت پارٹی کا کوئی رکن محمد نوازشریف کی جگہ لینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ محمد نواز شریف کل بھی ہمارے قائد تھے،آج بھی ہمارے قائد ہیں اورکل بھی ہمارے قائد رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ یہ صرف مسلم لیگ(ن) کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان بھر کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد نوازشریف جیسا قائدنصیب ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوازشریف ہی وہ پاکستانی سیاستدان اوررہنماء ہیں جنہیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا سیاسی وارث قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ محمد نوازشریف نے امریکہ کی جانب سے 5ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کو پایہ حقارت سے رد کیا اور قوم کے عظیم مفاد کو سامنے رکھاایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے سے لیکرملک کے طول وارض میں پھیلی ہوئی موٹر ویز اورکسانوں کیلئے اربوں روپے کے پیکیجزتک اورپھر عوام کو مسلح افواج کی قربانیوں اور بے مثال تعاون کے ذریعے دہشت گردی سے نجات دلانے سے لے کرلوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کے پیش نظر مستقبل کا مورخ نوازشریف کو بانیان پاکستان کے بعد ہر اعتبار سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مدبر اور محترم رہنما تسلیم کرنے پر مجبور ہوگاانہوں نے کہاکہ کسانوں کو سستی کھاد کی فراہمی بلاسود قرضے او رملک کی ترقی نوازشریف کے ایسے کارنامے ہیں جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھیں گیانہوں نے کہاکہ جب دوسرے صوبوں کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو خیبر پختونخوا کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہییہاں کی عوام کے ساتھ تبدیلی کا نعرہ لگا کر بہت بڑا دھوکہ اور فراڈ کیا گیا یہی وجہ ہے کہ آج کے پی کے کا ہر فرد او رنوجوان یہ شعر پڑھنے پر مجبور ہیرخ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلا جسے ہم چاند سمجھے تھے وہ جگنو بھی نہیں نکلا انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تشکیل کی طرح اس کی تعمیر میں ہمارے غیرمسلم بھائیوں نے جو کردار ادا کیا وہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں ملک کی تعمیر وترقی میں اقلیتوں کے کردار پر ہمیں فخر ہے او رہمیں قومی تعمیر کے سفر میں پاکستا ن بھر کی اقلیتوں کا ساتھ حاصل ہے اور یہ ناقابل شکست تعاون ہمیشہ جاری رہے گاانہوں نے کہاکہ ہمیں یہ کامل یقین ہے کہ کیسی ہی ساز باز ہو ،کتنے ہی سیاسی جعلساز مل بیٹھیں ، گٹھ جوڑ ہواور نیازی او رزرداری ملکر بھی ہم پر بھاری نہیں ہیں وزیراعلی نے کہاکہ میرے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے کہ نوازشریف جیسے مقام اورمرتبہ کے حامل رہنما نے مجھے اپنے منصب پر فائز کرنے کیلئے چنا ہے۔ میں نے قائم مقام صدر کے طورپر منتخب ہونے کے بعد کہا تھا کہ میرا دل اوردماغ مجھ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص نوازشریف کی جگہ کیسے لے سکتا ہے اور وہ محبت کسی اورشخص کے حصے میں کیسے آسکتی ہے جو پاکستان کے عوام نے ہمیشہ نوازشریف پر نچھاور کی ہے۔میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ یہ چیلنج ایک اتنابڑا چیلنج ہے جس سے عہدہ برآہوناکوئی آسان کام نہیں۔ لیکن اس چیلنج کے سنگینی کے احساس کے باوجود مجھے خدائے بزرگ و برتر کے فضل و کرم کے ساتھ ساتھ اپنے قائد محترم کی سرپرستی،آپ لوگوں کے تعاون اور پاکستان کے عوام کی دعاؤں پر پورا بھروسہ ہے ۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمد نوازشریف کے چھوٹے بھائی اور قریبی ساتھی کے طورپرتقریباً30برس سے زیادہ تک اپنی جماعت اورپاکستان کی خدمت کا موقع ملا ہے۔یہ تربیت اوریہ ریاضت میری زندگی کا سرمایہ ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس نئے منصب پر اپنی ذمہ داریوں کو بہترین طورپر صرف کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھوں گا۔انہوں نے کہاکہ میں قائد محترم محمد نوازشریف کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) کے اکابرین، اوراپنے سیاسی رفیقوں کابھی دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے قومی خدمت کے اس منصب کیلئے مناسب خیال کیا ۔میں اس موقع پر ملک بھر میں موجودمسلم لیگ(ن) کے کا رکنوں کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کرناچاہوں گا۔ یہ کارکن ہماری پارٹی کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔ ان کارکنوں نے ہر مشکل وقت میں بڑی سے بڑی قربانی دے کر اپنے قائد اور اپنی جماعت سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے اور میں ان کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ آج کا یہ دن مبارکبادیں دینے اور مبارکبادیں وصول کرنے کا دن نہیں۔ آج ہم سب دل شکستہ اور دل گرفتہ ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے لیڈر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور انہیں ناانصافی کا نشانہ بنایاگیا ہے۔میرا دل گواہی دے رہاہے کہ محمد نوازشریف او رپاکستان کے کروڑوں عوام کو انصاف ملے گاوہ دن ضرور آئے گا جب اس زیادتی کاازالہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستا ن مسلم لیگ (ن) قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظریات کی وارث جماعت ہیمیں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عوام کے تمام دکھوں کا مداوا قائد اعظم ؒ اورعلامہ محمد اقبالؒ کی تعلیمات اور نظریات کے تحت پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانے میں مضمر ہےآئیے!آج ہم سب قائد اعظم ؒ کی جماعت کا وارث ہونے کی حیثیت سے یہ وعدہ کریں کہ ہم اپنے معاشرے میں اقتصادی افراط وتفریط اور امیر او رغریب کے درمیان موجود خلیج کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے دن رات ایک کردیں گےآج ہمارے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج موجود ہے آج ہم نے اپنے عمل سے ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو سیاسی عمل کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں ہم نے جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہیہم نے اس امر کو یقینی بناناہے کہ سیاسی عمل کی منزل ایک منصفانہ ، آزاد اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی شکل میں سامنے آنی چاہیے وزیراعلی ٰنے کہا کہ میں ایک بار پھر اس منصب کے لئے اپنے انتخاب پر اپنے اور آپ کے قائد محمد نوازشریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے اس منصب کے تقاضوں پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہمیرا کوئی ذاتی نہیں پاکستان کی ترقی کا ایجنڈا ہے، آئندہ الیکشن کو ریفرنڈم بنائیں گے، اگر کہیں ترقی ہو رہی ہے تو اسے تسلیم کریں، سابق وزیر اعظم نے سینٹ الیکشن میں عمران خان اور زرداری کے اتحاد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ایک تماشا لگایا گیا، بنی گالہ، بلاول ہاؤس والے اور کے پی کے سے چلنے والے قافلے بھی وہیں جاکر جھک گئے، ایک ہی جگہ پر جاکر سجدہ کردیا، کیا قد کاٹھ ہے اس شخص کا، یہ سب چابی والے کھلونے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا منشور ’’ووٹ کو تقدس دو‘‘جو مشن چن لیا اس کی تکمیل سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، بنی گالہ اور بلاول ہاؤس والے سب ایک درگاہ میں جا کر جھک گئے اور سلام پیش کیا، قوم تمہارے قول و فعل میں تضاد کو دیکھ رہی ہے، تم جیت کر بھی ہار گئے اور ہم ہار کر بھی جیت گئے، ووٹ کی عزت ہو گی تو آپ کی اور اس ملک کی عزت ہو گی۔ منگل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم شہیاز شریف کو پارٹی کا نیا صدر منتخب کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے، ہمارے لئے یہ صورتحال پیدا کی گئی ہے، 2013 میں عوام نے مجھے بطور وزیراعظم نتخب کیا، مجھے عوام نے کروڑوں ووٹ دے کر وزیراعظم منتخب کیا، میں دن رات سوچتا ہوں کہ قوم کو اندھیروں میں ڈبو دیا گیا، دہشت گردی میں دھکیل دیا گیا، تنزلی کی طرف دھکیلا گیا، لوڈشیڈنگ کے دور کو چار سال میں ختم کرنا نا ممکن ہے، ہم اور ہمارے وزراء نے دن رات محنت کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں روزانہ پورے ملک میں منصوبوں کا افتتاح کر رہا ہوں،شہباز شریف نے جتنا کام کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، پورے ملک کے دیگر صوبوں میں بتائیں کتنا کام ہوا ہے؟2013 کا نقشہ آپ ذہن میں لے کر آئیں، ٹی وی کی سکرینیں دیکھیں، پاکستان میں اندھیرے تھے، پاکستان ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف بڑھ رہا تھا، پاکستانی دکھی تھے، دھماکوں میں سینکڑوں لوگ جاں بحق ہوتے تھے، اس وقت حکومت سنبھالنا مشکل تھا، ہم نے چیلنج قبول کیا، ہمارے پاس بجلی کا منصوبہ لگانے کیلئے پیسے نہ تھے، بینکوں کے پاس بھی بجلی کا منصوبوں کیلئے درکار رقم نہ تھی جبکہ آج متعدد منصوبے چل رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہ اللہ کے فضل وکرم سے نیک نیتی کا نتیجہ ہے، پہلے 22گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی جبکہ آج عوام سکھ کا سانس لے رہے ہیں، ہم نے پاکستان میں سڑکوں کا جال بچھایا،موٹروے کے منصوبے شروع کئے، جن کا افتتاح وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کریں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مجھ سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چل کر افتتاح کریں مگر میں بھی انسان ہوں، میرا دل بھی چاہتا ہے ، مگر میں نہیں گیا، اس موقع پر انہوں نے شعر پڑھ کر سنایا کہ ’’ہمارا خون بھی شامل تزئیں گلستان میں ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے‘‘ منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم اور شہباز شریف مجھے یاد کرتے ہوں گے، کبھی کبھی انسان کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے، مگر میں اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹوں گا، ہمارے اگلے 70سال پچھلے 70سال سے بہتر ہونے چاہئیں، میں آپ کو بھی اس مشن میں ساتھ لے کر چلوں گا،چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔ نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے منشور کے الفاظ یہ ہوں گے، ’’ووٹ کو عزت دو‘‘، آج لاکھوں لوگ یہ ہی نعرہ لگا رہے ہیں، ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے عوام کو عزت دو، ان کے مینڈیٹ اور حق حکمرنی کو عزت دو، میرے سامنے عزت عوام، ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے، خطاب کے دوران شرکاء نے پرجوش نعرے بھی بلند کئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کروڑوں لوگ ٹیلی وژن پر ہمیں دیکھ رہے ہیں، میں عوام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اپنی سیاست کیلئے کوئی لالچ نہیں، میں یہ سب کچھ آپ کے ووٹ کی عزت کے لئے کرنا چاہتا ہوں، جس سے عالمی دنیا میں ہماری عزت ہو گی، آپ نے آئندہ الیکشن میں ووٹ کو ریفرنڈم بنانا ہے، میں آج اپنے کسی کئے کی سزا نہیں بھگت رہا ہوں، میں روزانہ نیب عدالتوں کے چکر لگا رہا ہوں، کوئی مجھے بتائے کہ میں نے کون سی کرپشن کی، میں ووٹ کے احترام ، اس کی عزت، قوم کے بچوں کی بات کرتا ہوں، میں پاکستانی قوم کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہوں، میرا ایجنڈا پاکستان کی ترقی ہے، سی پیک میں لاکھوں افراد کو روزگار مل رہا ہے، ملک میں مہنگائی کا خاتمہ ہو رہا تھا، پاکستان میں میٹرو بس، اورنج ٹرین اور دیگر منصوبے لگ رہے تھے، مگر مجھے اس بات کی سزا دی گئی، مجھے اپنی نہیں اپنی قوم کی پرواہ ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آپ نے گزشتہ روز ملک میں تماشا دیکھا، لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں کہ ہم اصول پرست ہیں، نیا پاکستان بنائیں گے، گزشتہ روز سب ایک ہی بارگاہ میں اکٹھے ہوگئے ، چلنے والے قافلے ایک ہی جگہ جا کر جھک گئے، کیا قد کاٹھ ہے اس شخص کا، یہ سب چابی والے کھلونے ہیں، تم لوگوں کو کس طرح سے بتاؤ گے کہ کیوں ہم نے اس جگہ پر جا کر جھک کر سلام کیا اور سجدہ ریز ہو گئے، قوم جانتی ہے کہ تم منافق اور جھوٹے ہو، تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے، کیا لیڈر اس طرح کے ہوتے ہیں یہ پاکستانی قوم کے لیڈر نہیں شرمندگی ہیں، تم جیت کر ہار گئے ہو، ہم ہار کر بھی جیت گئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ دل میں کھوٹ ہو تو کبھی بھی کامیابی نہیں ملتی، اس موقع پر انہوں نے شعر پڑھا کہ ’’ جو میں سربسجدہ ہوا کبھی، تو زمین سے آگے لگی سدا، تیرا دل تو ہے صنم آشنا،مجھے کیا ملے گا نماز میں‘‘ انہوں نے مرزا غالب کا شعر بھی پڑھ کر سنایاکہ ’’ کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب، شرم تم کو مگر نہیں آتی‘‘ ہم پاکستانی قوم کو بیچنے والے نہیں اور نہ ہی کمپرومائز کر نے والے ہیں، اپنے مفاد کی خاطر پاکستانی قوم کو بیچنے والے نہیں ہیں جبکہ یہ لوگ اپنے مفاد کیلئے آپ کو بیچ دیں گے، ہم کھڑے ہیں، برداشت کر رہے ہیں، ہم جھکنے والے نہیں ہیں، ہم صرف اللہ کی بارگاہ میں جھکے گیں اور آپ بھی وعدہ کرو کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکیں گے، وعدہ کرو کہ الیکشن کو ریفرنڈم بنائیں گے، وعدہ کرو کہ پاکستان کی تقدیر بدلو گے، آخر میں انہوں نے ؟؟ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بھی لگوایا۔


© Copyright 2018. All right Reserved