اتوار‬‮   23   ستمبر‬‮   2018

نوازشریف کو درپیش نئے سیاسی چیلنجز اور حالات نے شاعر بنادیا

اسلام آباد( جاوید شہزاد سے ) ’ نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم نوازشریف کو درپیش نئے سیاسی چیلنجز اور حالات نے شاعر بنادیا ہے نوازشریف نے شاعری کی بھرمار کرتے ہوئے پورا دیوان ہی پڑھ ڈالا ہے انھوں نے کئی شاعروں کے کلام بھی بڑے ترنم کے ساتھ پڑے ہیں شاعرانہ انداز میں خطاب پر نوازشریف نے خوب داد سیمٹی ہے سینٹ شکست پر نوازشریف نے مخالفین کو کہا کہ کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب شرم تم کومگر نہیں آتی؟‘‘۔ منگل کو کنونشن سینٹر میں جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے بار بار اشعار کا استعمال کیا۔ایک موقع پر انھوں نے عمران خان اور زرداری پر ایک ہی در پر جھکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب شرم تم کومگر نہیں آتی؟۔نواز شریف نے یہ شعر بھی پڑا۔’’جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا‘‘،تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں‘‘۔ میاں نواز شریف نے اس موقع پر شعر پڑھا کہ ’’ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں‘‘،ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے


© Copyright 2018. All right Reserved