منگل‬‮   25   ستمبر‬‮   2018

توہین عدالت پر کسی کو سزا کسی کو معافی،مخصوص شخص کو نشانہ بنانا درست نہیں،صدر بھی بول پڑے


اسلام آباد( وقائع نگار ) صدر ممنون حسین نے بھی ملک کی موجودہ صورتحال پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مخصوص شخص کونشانہ بنانا درست نہیں ہے، سپریم کورٹ نے کئی لوگوں کوتوہین عدالت کی سزا دی اور کچھ کونہیں دی، یہ سب چیزیں وقتی ہیں سب ٹھیک ہوجائے گا، تفصیلات کے مطابق صدر ممنون حسین نے کہاکہ کسی مخصوص شخص کونشانہ بنانا درست نہیں ہے، سپریم کورٹ نے کئی لوگوں کوتوہین عدالت کی سزا دی اور کچھ کونہیں دی۔ ان خیالات کا اظہا ر انھوں نے پیر کو پاسپورٹ آفس کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ پاسپورٹ آفس کے انتظامات اچھے ہیں ،یہ پتانہیں معمول میں بھی ایسے ہی انتظامات ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات وقت پرہوتے نظرآرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کواپنی حدود میں وہ کرکام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جو دولت باہر ہے ضروری نہیں کہ ساری لوٹی ہوئی ہو۔ بے شمار لوگوں کی اپنی دولت بھی ہے۔ کچھ لوگوں کی لوٹی ہوئی دولت باہر ہے۔لیکن ایسے نہیں کہنا چاہیے جو دولت باہر ہے وہ لوٹی ہوئی ہے۔ممنون حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کئی لوگوں کوتوہین عدالت کی سزا دی اور کچھ کونہیں دی۔ کسی مخصوص شخص کونشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ صدرمملکت نے واضح کیا کہ یہ سب چیزیں وقتی ہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوشش بھی کروں توسیاسی جماعتیں ملکربیٹھ جائیں گی ۔سیاستدان کوئی بچے تو نہیں کہ انہیں سمجھایا جائے۔ سیاستدان سمجھ دار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کوخود ملکرکام کرنا چاہیے جوملکی مفادمیں ہو۔ پاکستانی ایسے ممالک میں نہ جائیں جہاں ان کے پاسپورٹ کی عزت نہیں ہوتی ، سی پیک اورملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ایسے عمل میں حصہ نہیں لینا چاہیے جس سے ملکی ترقی میں رکاوٹ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی ہے۔اس سے پہلے صدر ممنون حسین کا خاتون اول کے ہمراہ پاسپورٹ آفس کا دورہ کیا۔ صدر ممنون خاتون اول کے پاسپورٹ کے لیے پاسپورٹ آفس پہنچے۔صدر اور خاتون اول نے پاسپورٹ کیلیے درخواست پراسس کرائی۔
ممنون حسین
 


© Copyright 2018. All right Reserved