جمعہ‬‮   27   اپریل‬‮   2018

نواز ،مریم،وزیر اعظم کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی


لاہور(کورٹ رپورٹر،نیوزایجنسی) لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف، مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر 16 لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی۔ پیمراکو15روز میں فریقین کیخلاف دائردرخواستوں پر فیصلہ کرنے کاحکم۔تفصیلات کے مطابق جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ نے عدلیہ مخالف تقاریر کیس کی سماعت کی،پیمرا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرتقریرکے دوران توہین عدالت ہوئی ہے تواس پرتوہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہئے نوازشریف کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرااپنے کوڈآف کنڈیکٹ پر عمل درآمد کا پابند ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی تقاریرپر کوئی نوٹس نہیں لیااس پر جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تنقید کی حد کیا ہے ہائیکورٹ کے فل بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف، مریم نواز، وزیراعظم شاہدخاقان ،خواجہ سعدرفیق، دانیال عزیز، طلال چودھری سمیت 16 لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر نشرکرنے پر پابندی عائد کردی عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پیمرا15 روز میں فریقین کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ کرے اس دوران نوازشریف،مریم نوازاوردیگرافرادکی عدلیہ مخالف تقاریرنشرنہ کی جائیں۔ہائیکورٹ نے عدالتی دائرہ اختیارکیخلاف نوازشریف کی درخواست مستردکردی،عدالت نے رجسٹرارآفس کااعتراض برقراررکھتے ہوئے کہا کہ پیمرا 15 روزمیں عدلیہ مخالف تقاریرکاسختی سے نوٹس لے اورعدالت توہین آمیزمواد کی خودمانیٹرنگ کرے گی ۔ یادرہے لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر 16 لیگی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی 2 درجن سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ مذکورہ شخصیات پاناما کیس سمیت دیگر کیسز میں عدلیہ مخالف تقاریر کررہی ہیں اور براہ راست ججوں کو نشانہ بنارہے ہیں، یہ تقاریر براہِ راست نشر کی جارہی ہے جو توہین عدالت ہے۔درخواست گزاروں نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی جب کہ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ پیمرا کو کوڈ آف کنڈکٹ یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔
تقاریرپابندی


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved