منگل‬‮   17   جولائی   2018

کسی شیر کو نہیں جانتا،اصل شیر میرے جج ہیں،خواتین سے عدلیہ مخالف نعرے لگوانے والے مرد بنیں،سامنے آئیں،چیف جسٹس


اسلام آباد (نیوز رپورٹر )عدالت عظمیٰ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کیلئے قائم کمیٹی سے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا نام نکال دیا ہے اور ان کی جگہ پر وفاقی سیکریٹری برا ئے اطلاعات و نشریات کا نام شامل کر دیا ہے ،چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے قائم سرچ کمیٹی میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن کے چیئرمین میاں عامرمحمود ، حمید ہارون، عارف نظامی ، سرتاج عزیزاور سیکرٹری اطلاعات ونشریات بھی شامل ہوں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے مریم اورنگزیب کا نام کمیٹی سے نکا لتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی ان کیلئے کمیٹی کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا ، ہم پیمرا کو حکومتی اثر سے آزاد کرنا چاہتے ہیں ، چئیرمین صاف ستھرا شخص آنا چاہیے ،عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا،اگر ہماری بات ٹھیک نہیں توبولنا بھی بند کردیں گے، قانون سازوں کوقانون میں ترمیم کے لیے تجویز نہیں کر سکتے،پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں؟ آرٹیکل 5اور6آئین کے آرٹیکل 19سے مطابقت نہیں رکھتے،لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں،حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں، میں کسی شیر کو نہیں جانتا،انہوں نے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں اصل شیرہیں، نا اہلی کیس کے بعد عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں،مردبنیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے، انہو ں نے عدلیہ مخالف نعروں اور عدالتی احترام با رئے کہا کہ اتنااحترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں، جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ بات اب زبان سے بڑھ گئی ہے ،واضع رہے کہ عدالت نے بالواسطہ طور پرمسلم لیگ ن لیگ کی خواتین کارکنوں کی سپریم کورٹ کے باہر چند دن قبل کی گئی نعرے بازی کا ذکر کیا ہے ،جبکہ جنگ گروپ کے صحا فیو ں کو تین ماہ کی تنخواہو ں کی عدم ادائیگی پرعدالت نے وضا حت کے لیے آج میر شکیل الرحمان کو طلب کرلیا ہے،اینکرپرسن حامد میر نے دوران سماعت جنگ گروپ کے صحا فیو ں کو تین ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آج میر شکیل الرحمن پیش ہو کر بتائیں کہ تنخواہیں کیوں ادا نہیں ہوئیں ، مالک کو کفالت کاحق ادا کرنا ہے ۔چیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پیمراقانون میں ترمیم کے حوالے سے کیاکیاگیاہے تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایا ں صحافی اور پی بی اے کے چئیرمین کوشامل کیا گیا ہے ، کمیشن چئیرمین پیمراکے لئے 3ممبران کے پینل کاانتخاب کرے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا، رانا وقار نے کہا کہ یہ کام 3ہفتوں کے اندر ہوجائے گا، فوری ایشو چئیرمین پیمراکی تقرری کا ہے، پیمرا قانون کاآرٹیکل 5آئینی تقاضاہے ،اس مو قع پر عدالت نے پیمرا چییرمین کے انتخاب کے لئے سرچ کمیٹی کی تشکیل تبدیل کردی اور مریم اورنگزیب کوکمیٹی سے نکال کر سیکرٹری اطلاعات کو شامل کر دیا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہیں ان کے لئے کمیٹی کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا ، عدلیہ کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، کسی شیر کومیں نہیں جانتا ، یہ ہیں اصل شیر یہ ججز ہیں،جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ پیمرا قانون میں کیا غلط خبروں سے متعلق کوئی شق ہے؟ جعلی خبریں بہت اہم مسئلہ ہیں، ملائیشیا میں جعلی خبر کو فوجداری جرم بنادیا گیا ہے۔ رانا وقار نے کہا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کرنا نہایت ضروری ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ قانون کو کالعدم قرار دیا تو خلا پیدا ہوگا۔حامد میر کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 5 کے اطلاق کی گائیڈ لائن ہونی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 5اور6آئین کے آرٹیکل 19سے مطابقت نہیں رکھتے،لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں،حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں، ہم قانون کے خلاف کام نہیں کرنا چاہتے لیکن چئیرمین پیمراکے لیے صاف ستھراشخص آناچاہیے،یہ کام میراکھولاہوانہیں لیکن بندکرکے جاؤں گا،حکومت پر کوئی تلوارنہیں ہے لیکن یہ کام ہوناچاہیے۔حامدمیر کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے آرٹیکل5 کے اختیارکوپیمراکی رضامندی سے مشروط کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی نے فیصل رضاعابدی کاانٹرویودیکھا ہے؟سپریم کورٹ کے باہرعدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے،ابھی صبراور تحمل سے کام لے رہے ہیں،غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے، 2روز قبل جب ہم نے آرٹیکل 62ون ایف کا فیصلہ سنایا تو عدالت کے باہر نعرے لگائے گئے،یہاں عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے ہیں، کیایہ میڈیاکی ذمہ داری ہے؟اتنااحترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں،نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے،خواتین کوشیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے،میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔ صحافیو ں کو تنخواہو ں کی عدم ادائیگی با رئے چیف جسٹس نے اینکر حامد میر سے استفسار کیا کہ اپ کتنی تنخواہ لے رہے ہیں، جس پر حامد میر نے عدالت کو بتایا کہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ، چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہ نہ ملی توحامد میر کی مرسڈیز گاڑی کیسے چلے گی، اینکروں کو لاکھوں روپیے تنخواہ ملتی ہے، رپورٹرز کو تنخواہ نہیں ملتی جبکہ رپورٹرز کی خبروں پر اپ لوگ پروگرام کرتے ہیں، کیا بارہ ہزار روپے سے کسی گھر کا بجٹ بن سکتا ہے۔ حامد صاحب آپ ان رپورٹرز کے لیے بھی آواز اٹھائیں، اینکرز سے پیار ہے مگر رپورٹرز کے لیے کچھ کریں، آج میر شکیل الرحمن پیش ہو کر بتائیں کہ تنخواہیں کیوں ادا نہیں ہوئیں ، مالک کو کفالت کاحق ادا کرنا ہے،ایک موقع پر چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ لالوپرشاد کانام لیاتھا، اس حوالے سے میری معلومات غلط تھیں، لالوپرشاد لا گریجویٹ ہیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2ہفتے کے لیے ملتوی کردی ہے
چیف جسٹس


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved