بدھ‬‮   26   ستمبر‬‮   2018

چیف جسٹس کی حکومت کو عمران خان کا گھر گرانے کی اجازت

اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران واضع کرتے ہوئے کہا ہے کہ علا قے میں تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ عدالت نے نہیں بلکہ و زیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے کیا ہے او اس بارے یہ تاثر غلط ہے کہ عدالت نے تعمیرات ریگولر کرنیکا کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے سی ڈی اے کواسلام آباد کے ایف نائین پبلک پارک میں موجود فاطمہ جناح پارک میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے روک دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گا لہ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف از خود نو ٹس کیو کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ راول ڈیم کے قریب شادی ہالز کی تعمیرات کی گئی ہے جو کہ غیر قانونی ہیں تو چیف جسٹس نے کہاکہ دو کلومیٹر کے دائرے میں ہوٹل بن سکتے ہیں تومارکی کیوں نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ راول ڈیم کے قریب 11 شادی ہالز زون 1میں آتے ہیں اس لیے ان شادی ہالز کونوٹس دئیے گئے ہیں۔12 شادی ہالز ایسے ہیں جنہیں گرا نہیں سکتے توجسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ نیشنل پارک کی حدود میں شادی ہالزکی گنجائش نہیں ۔ ممبر سی ڈی اے نے کہاکہ راول شادی ہال نیشنل پارک کی حدود میں ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ سی ڈی اے والے بھی ملے ہوئے ہیں،سی ڈی اے پارک کا نقشہ دکھا دے ، اگرشادی ہال پارک میں ہوا تورات 12بجے تک مارکی کو ختم کر دیا جائے گا،2 کلومیٹر کے دائرے میں ہوٹل بن سکتے ہیں مارکی کیوں نہیں، ہوٹل کی سرگرمیاں بھی کمرشل ہوتی ہیں، ہوٹلزاورموٹلزکوکس قانون کے تحت استثنی دیاگیا،سی ڈی اے حکام ہمیں سمجھانہیں پارہے،لگتاہے سی ڈی اے حکام خود کنفیوزڈ ہیں۔عدالت کے سامنے ایک مارکی کے وکیل نے کہاکہ دوکلومیٹر کے دائرے میں کئی شادی ہال ہیں اوربنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ہے۔عدالت نے بنی گالہ میں تعمیرات ریگولرکرنے کاحکم دیا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ ریگولر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کا ہے۔ ایک مرتبہ قانون کی حکمرانی قائم ہوگئی توسب ٹھیک ہوجائے گا۔عدالت نے سی ڈی اے سے نیشنل پارک کا پلان طلب کر لیا اوراٹارنی جنرل کو شام چھ بجے پیشی کی ہدا یت کی ہے ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نہ میں کسی کی سرزنش کرتا ہوں نہ غصہ، میڈیا میرے طرف سے بلا وجہ الفاظ چلا کر میری بدنامی کرتا ہے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو اسلام آباد کے ایف نائین پبلک پارک میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے روک دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ پارک میں گرڈ اسٹیشن نہیں بن سکتا،، سی ڈی اے کہیں اور گرڈ اسٹیشن تعمیر کرلے۔ چیف جسٹس نے سی ڈی اے سے کہا کہ لوگ پارک میں صحت مندانہ سرگرمیوں کے لئے جاتے ہیں،پارک میں گرڈ اسٹیشن صحت کے لئے نقصان دہ ہے، سی ڈی اے کہیں اور گرڈ اسٹیشن تعمیر کرلے، عدالت نے ایف نائن پارک گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کامعاملہ نمٹا دیا ہے۔
عمران گھر گرانے کی اجازت 


© Copyright 2018. All right Reserved