جمعہ‬‮   20   جولائی   2018

مشرف شیر پائی نے 4000پاکستانی بیچے،گمشدگیاں بیرونی سازش ہے،چیئرمین کمیشن


اسلام آباد(وقائع نگار ،سٹی رپورٹر)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے ہمارے خفیہ اداروں پرالزام لگانا چاہتی ہیں، لاپتہ افراد میں سے 70فیصد دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں،لاپتہ افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے پاک فوج کے جوانوں کے سرسے فٹ بال کھیلے ،مشرف دور میں4ہزار پاکستانی غیر ملکیوں کے حوالے کئے گئے ، مشرف اور اس وقت کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے اقدامات کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی،حوالگی کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو خفیہ طریقے سے غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا جس کے عوض ڈالرز حاصل کئے گئے، ملک دشمن ایجنسیز بھی لاپتہ افراد کے معاملے میں ملوث رہی ہیں،ملک کے اندر بہت سی این جی اوز ملک کے خلاف ایجنڈا پر کام کر رہی ہیں مگر ان پر پابندیاں نہیں لگائی جا تی،شکیل آفریدی کے کردار سے بین الاقوامی این جی اوز کے کردار کو پرکھا جا سکتا ہے، لاپتہ افراد کے4929کیسز موصول ہوئے، 3219کیسز نمٹا دئیے جبکہ 1710کیسز کی تحقیقات جاری ہے،، پارلیمنٹ نے گذشتہ دس سالوں سے لاپتہ افراد کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی۔پیر کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین بابر نواز خان کی عدم موجودگی میں زہرہ ودود فاطمی کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔ اجلاس میں ملک میں لاپتہ افراد کے حوالے لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین جسٹس ( ر) جاوید اقبال نے بتایا کہ اکثر بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد خوف کی وجہ سے کمیشن کے سامنے واقعات سنانے سے اجتناب کرتے ہیں، لاپتہ افراد میں سے70 فیصد سے زائد لوگ عسکریت پسندی میں ملوث پائے گئے، اگر کوئی شخص دہشت گرد ہے تو اس کا مطلب نہیں کہ اس کے گھر والے بھی دہشت گرد ہیں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی قیادت کی اپنے لاپتہ افراد معاملے میں عدم دلچسپی رہی، سب جانتے ہیں ایم کیو ایم کو حکومت کا بھی موقع ملا اور عشرت العباد گورنر سندھ رہے لیکن اختیار ملنے کے باوجود ایم کیو ایم نے اپنے لاپتہ افراد کی بازیابی میں سنجیدگی ظاہر نہیں کی، ایم کیو ایم کے بعض لاپتہ افراد کا 20 سال گزرنے کے باوجود تاحال پتہ نہیں چل سکا، عشرت العباد نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو پلاٹ اور ایک نوکری دی اور معاملہ ختم کردیا۔جسٹس(ر) جاوید اقبال کے مطابق اس وقت ایم کیو ایم کے 14 لاپتہ افراد کے کیسز کمیشن کے پاس ہیں، ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد کی تعداد خطرناک حد تک تجاوز کر گئی ہے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، کمیشن کے پاس ایم کیو ایم کارکنان کے 29 کیسز زیر التوا ہیں ، جو 1992 سے 1995 تک کے ہیں۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ مشرف دور حکومت میں وزیر داخلہ آفتاب شیرپا نے چار ہزار پاکستانی غیر ملکیوں کے حوالے کئے، پرویز مشرف نے پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کرنے کا اعتراف بھی کیا، مشرف اور شیرپاؤ کے اقدامات کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی، پارلیمنٹ کو مشرف اور شیرپاو کے اقدامات کی تحقیقات کروانی چاہئے تھی، پوچھا جانا چاہئے تھا کہ آخر کس قانون کے تحت پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا، ملک میں پارلیمنٹ، آئین، عدالتیں ہونے کے باوجود کیسے کسی پاکستانی کو غیر ملک کے حوالے کیا گیا۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ حوالگی کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو خفیہ طریقے سے غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا جس کے عوض ڈالرز حاصل کئے گئے، یہ نہ پوچھا جائے کہ کتنے ڈالرز ملے، ملک دشمن ایجنسیز بھی لاپتہ افراد کے معاملے میں ملوث رہی ہیں، یہ ایجنسیز لوگوں کو اٹھا کر آئی ایس آئی اور ایم آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں
چیئرمین کمیشن
 


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved