بدھ‬‮   26   ستمبر‬‮   2018

خادم رضوی کیخلاف مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی


اسلام آباد ( خصوصی نیوز رپورٹر) تحریک لبیک کے سراہ و دیگر کے خلاف درج مقدمات کی از سر نو تفتیش کئے جانے کے بیان پر اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے خادم حسین رضوی سمیت دیگر افراد کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی سماعت کو غیر معینہ مدتکے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ان مقدمات کو التوا ئمیں ڈالنے کا حکم اس مقدمے کے سرکاری وکیل کی درخواست پر دیا ہے۔ اس سے پہلے متعقلہ عدالت ملزم خادم حسین رضوی کو عدالت میں عدم پیشی پر نہ صرف اُنھیں اشتہاری قرار دے چکی ہے بلکہ ان کے ناقبابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی ہے۔ پیر کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جب ان مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات کی نئے سرے سے تفتیش کی جارہی ہے جبکہ اس ضمن میں ایک نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ فیص آباد میں دھرنے کے دوران نئے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کی تفتیش کرنا بہت ضروری ہے۔ سرکاری وکیل کا مذید کہنا تھا کہ تفتیش کی روشنی میں نیا چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا ۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک تفتیش کا عمل مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک اس مقدمے کو التوا میں ڈال دیا جائے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خادم حسین رضوی کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو التوا میں ڈالنا اسی معاہدے کی کڑی ہے جو پنجاب حکومت اور لاہور میں دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ کی قیادت کے درمیان چند روز قبل ہوا ہے۔ اس معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو واپس لے لیا جائے گا اس معاہدے کے تحت فیض آباد دھرنے کے دوران ہلاک ہونے والے چھ افراد کے قتل کا مقدمہ بھی راولپنڈی کے ایک تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کی طرف سے فیض آباد دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں جو رپورٹس پیش کی گئی تھیں اس کے مطابق دھرنے کے دوران احتجاجی مظاہرین نے سرکاری املاک کو جو نقصان پہنچایا اس کی مالیت 15کروڑ روپے ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ ملزم خادم حسین رضوی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اس لیے ایسے مقدمات میں نہ تو فریقین کے درمیان صلح ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان دفعات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ملتوی
 


© Copyright 2018. All right Reserved