جمعہ‬‮   25   مئی‬‮   2018

متنازع بیان،پارلیمنٹ کمیشن بنائے،وزیر اعظم،اپوزیشن کا انکار


اسلام آباد (اوصاف نیوز ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے متنازع بیان پر انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے ن لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف کے بیان سے متعلق قومی اسمبلی میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی وضاحت کو مسترد کردیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ جس نے ملک کو نا قابل تسخیر بنایا اس کے خلاف غداری کی باتیں کی جارہی ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک انٹرویو کیا گیا جس میں چند باتیں لکھیں گئیں تھیں، وہ معاملات ایسے نہیں تھے کہ جس پر صرف نواز شریف نے باتیں کی بلکہ جنرل پرویز مشرف، جنرل پاشا، عمران خان، فوجی آفیسر درانی اور سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بھی اس پر باتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈان اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں نواز شریف نے جو باتیں کی اس کی بھارتی میڈیا نے غلط تشریح کی اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جبکہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انٹرویو میں غیر ریاستی عناصر کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں ان کی غلط تشریح کی گئی اور ممبئی حملوں میں پاکستان سے دہشتگردوں کو بھیجا گیا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ( ن )کی جانب سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک پر حملے کے لیے ہماری جماعت اپنی سرزمین کو استعمال نہیں کرنے دے گی۔ انہوں نے مخالف جماعتوں سے گزارش کی کہ ان معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کا آلہ کار نہ بنیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تقریر کرنے والے اگر اخباری خبر پڑھتے تو ایسے بیان نہ دیتے۔ انہوں نے قائد ن لیگ کے حوالے سے کہا کہ جس شخص نے دبا کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اس پر الزام مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر حکومتی موقف کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا۔ انہوں نے متنازع بیان کے حوالے سے حقائق جاننے کے لیے کمیشن بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کے خطاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے بولنا شروع کر دیا جس پر شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پیٹ میں درد ہے ان کو بولنے دیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے 18پیٹ درد والے جملے17 پر شور شرابہ مچ گیا اور اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے احتجاجاً واک آٹ کردیا۔ اپوزیشن نے وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں بیان بھی مسترد کر دیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے بیان کی وضاحت کی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے انٹرویو میں جو کہا اور اسے جس طرح لکھا گیا وہاں سے سارا معاملہ شروع ہوا، ان باتوں کو بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لیے اٹھایا جسے آج یہاں پھیلایا جارہا ہے۔ نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے ممبئی میں حملہ کیا انہیں پاکستان سے جان بوجھ کر بھیجا گیا، ان اسٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے جو ایک جملہ ہے وہ غلط رپورٹ ہوا۔ پی ٹی آئی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم کی وضاحت کے جواب میں کہا کہ نوازشریف کا انٹرویو اخبارات کی زینت بنا، جسے بھارتی میڈیا نے اچھالا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس نے نوازشریف کا بیان مسترد کر دیا۔ ہم نوازشریف سے پوچھنا چاہتے ہیں اس بیان کی آخر کیا ضرورت تھی؟ ، وہ کہتے ہیں انہوں نے کیا غلط کہا، ان کے بیان سے ملکی مفادات کو کیا نقصان پہنچا۔ نوازشریف پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ نواز شریف کے اس انٹرویو کے پیچھے پورا پس منظر موجود ہے، اس انٹرویو نے پاکستانیوں کے احساسات کو مجروح کیا، انہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد دو اداروں کو نشانہ بنایا، اداروں کو نشانہ بنانے پر کامیابی نہ ملنے پر ملک میں انتشار پھیلایا جارہا ہے، نواز شریف کا بیانیہ جھوٹا ہے، وہ آج بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس کا ذمہ دار ہے، پاکستان میں دہشت گرد موجود ہیں مگر ہم ان کو سپورٹ نہیں کرتے، آپ اپنے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لئے پاکستان کو دا پر نہیں لگا سکتے، ہم آپ کو ایسا کرنے نہیں دیں گے، ہم نواز شریف کے اس بیان کو مسترد اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی ثمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ نواز شریف کا بیان 50 ہزار شہیدوں کی توہین ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں، نواز شریف وزیر اعظم رہے، اس وقت خاموش کیوں رہے؟ ۔ نواز شریف نے پانچ سالوں میں کالعدم تنظیموں کو کام کرنے کیوں دیا، عہدے سے ہٹنے کے بعد ایسی باتیں کیوں کی جاتی ہیں؟، ہم لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر غدار قرار دینے کے ساتھ اس بیان کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ذمہ دار شخص کی جانب سے ایسی بات نہیں ہونی چاہیے، قومی سلامتی کمیٹی اور آرمی چیف نے بھی اس کی مذمت کی، اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ بیان توڑ مروڑ کر تو پیش نہیں ہوا، اگر وہ صفائی نہیں دیتے تو ملکی سالمیت کی خلاف وزری پر کارروائی کی جائے، کارروائی صرف نواز شریف کے خلاف ہی نہ ہو، 1988 میں جس وزیراعظم نے سکھوں کی فہرست بھارت کو دی اس نے بھی غداری کی۔ بعد ازاں اپوزیشن نے ایوان سے واک آٹ کردیا۔
قومی اسمبلی وزیراعظم مسترد


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved