جمعہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2018

’’باعزت راستہ‘‘،نوازشریف سیاست چھوڑنے،باہرجانے پرتیار






اسلام آباد(ناصر نقوی سے)سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف باعزت راستہ ملنے پر سیاست سے دستبردار ہونے اور بیرون ملک جانے کو تیار:آئندہ چند دن پاکستانی سیاست کیلئے بہت اہم جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی آئندہ چند روز میں ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں سے ملاقات متوقع ہے جس کے بعد پاکستان کی سیاست کے خدوخال واضح ہونے کے امکانات سامنے آجائینگے۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف اس وقت نیب میں مختلف مقدمات کی سماعت جاری ہے اور وہ اپنی بیٹی مریم نواز شریف کے ہمراہ ہفتے میں چار سے پانچ دن نیب عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔اس دوران بمبئی حملوں کے حوالے سے دیئے گئے ان کے ایک انٹرویو نے ملک میں بھونچال پیدا کر دیا اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو فوراً نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس بلانا پڑا جس میں ایک متفقہ رد عمل سامنے آیا تاہم نواز شریف نے اس رد عمل کو بھی مسترد کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہے اور اس ایشو پر قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کر دیا ۔نواز شریف کے اس بیان پر سب سے زیادہ دھچکا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پہنچا جو کہ اس وقت مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں۔دریں اثناء نواز شریف نے لاہور میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے اراکین کو مشاورت کیلئے بلایا۔اس میٹنگ میں جنوبی پنجاب کے صوبے کے نام پر ہونے والی سیاست پر بھی بات چیت کی گئی۔اس موقع پرنواز شریف نے اپنے ساتھی اراکین پر واضح کیا کہ ہماری جماعت کے اراکین پر ان کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے دباو ڈالا جا رہا ہے تاہم اپنی سیاسی جماعت کا وجود قائم رکھنے اور اپنے مخلص ساتھیوں کو کسی بھی پریشانی سے دوچار ہونے سے بچانے کیلئے وہ باعزت راستہ ملنے کی صورت میں سیاست سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں اور وہ بیرون ملک جانے کو بھی تیار ہیں تاکہ شہباز شریف سیاست میں رہ کر اپنی پارٹی اور مخلص ساتھیوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔اس حوالے سے آئندہ چند دن پاکستانی سیاست میں بہت اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں اور اس دوران کوئی بھی اہم فیصلہ ہو سکتا ہے ۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی آئندہ چند روز میں ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں سے ملاقات متوقع ہے جس کے بعد پاکستان کی سیاست کے خدوخال واضح ہونے کے امکانات سامنے آجائینگے۔ 

تیار



© Copyright 2018. All right Reserved