ہفتہ‬‮   18   اگست‬‮   2018

برخاست ملازمین کی پی پی دور میں بحالی،آئین کیخلاف ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے پیپلز پارٹی کے دور میں نکا لے گئے ملازم کے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی ہے اور او جی ڈی سی ایل کے ملا زم سے کنٹریکٹ لیٹر طلب کر لیا ہے ، عدالت نے ملا زمین کی بحالی کیلئے بنائے گئے قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ برخاست ملازمین بحالی کا قانون کس حکومت میں بنایا گیا قانون بظاہر آئین سے متصادم ہے جبکہ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ برخاست ملازمین بحالی کا قانون پیپلز پارٹی کی حکومت میں لایا گیا، بیک ڈور سے بھرتی ہوئے ملازمین قانون سے بحال ہوئے، برخاست ملازمین بحال ہوکر اہل لوگوں سے آگے نکل گئے، بحال ہونے والے ملازمین کو بڑے بڑے عہدے اور بڑی بڑی رقم ملی، ملازمین کی بحالی سے خزانے کو اربوں کو نقصان ہوا، بحالی کا قانون کے خلاف درخواست زیر التواء ہے، قانون کا جائزہ لے سکتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے برخاست ملازم آفتاب علی بحالی کیس کی سماعت کی۔ آفتاب علی کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا جس کے بعد تربیت دی گئی اور تر بیت کے بعد ان کے مو کل کو مستقل کر دیا گیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ برخاست ملازمین بحالی کا قانون بظاہر آئین سے متصادم ہے، برخاست ملازمین بحالی کا قانون کس حکومت میں بنایا گیا۔ کیا اس وقت پرویز مشرف کی حکومت تھی یا پیپلز پارٹی کی؟ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ برخاست ملازمین بحالی کا قانون پیپلز پارٹی کی حکومت میں لایا گیا، بیک ڈور سے بھرتی ہوئے ملازمین قانون سے بحال ہوئے، برخاست ملازمین بحال ہوکر اہل لوگوں سے آگے نکل گئے، بحال ہونے والے ملازمین کو بڑے بڑے عہدے اور بڑی بڑی رقم ملی، ملازمین کی بحالی سے خزانے کو اربوں کو نقصان ہوا، بحالی کا قانون کے خلاف درخواست زیر التوا ہے، قانون کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ عدالت نے اوجی ڈی ایل ملازم آفتاب احمد سے ملازمت کا کنٹریکٹ لیٹر طلب کر تے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے
سپریم کورٹ


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved