منگل‬‮   16   اکتوبر‬‮   2018

پی ٹی وی پر ایک سیاسی جماعت کا قبضہ قبول نہیں‘ قائمہ کمیٹی




اسلام آباد (وقائع نگار)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ نے وزارت اطلاعات سے سرکاری ٹی وی کے خبر نامے میں حکومت اور اپوزیشن کوریج کی ایک سال کی شرح طلب کرلی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی قومی اور ریاستی چینل ہے اس پر کسی ایک سیاسی( جماعت کا قبضہ قبول نہیں بلکہ اس پر پاکستان بھر کی نمائندگی ہونی چاہیے ،یہ ایک سیاسی چینل بن چکا ہے اور صرف ایک ہی پروپیگنڈے پر کام کر رہا ہے جس پروفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ محمد نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اوریہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کی کوریج کراؤں اور میں یہ صوابدیدی اختیارات کے ساتھ کر سکتی ہوں۔ وہ ایک لیڈر ہیں اور کیبنٹ نے اس پالیسی کا اختیار مجھے دے رکھا ہے،اگر وہ 5 گھنٹے بھی تقریر کریں گے تو براہ راست نشریات جاری ہونگی۔تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاویدکی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ اور پاکستان ٹیلی ویژن کے کام کے طریقہ کار ، کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ شفقت جلیل نے قائمہ کمیٹی کو وزارت کے مینڈیٹ اور قوانین اور ماتحت اداروں بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا۔ پی ٹی وی نیوز اور دیگر پی ٹی وی چینلز کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پی ٹی وی نیوز 24گھنٹے بالخصوص خبرنامہ میں صرف حکومتی جماعت کی پروجیکشن میں لگا رہتا ہے۔ پی ٹی وی عوام کے دئیے گئے پیسوں سے چلتا ہے اور یہ ریاست کا چینل ہے۔ اس پر کسی ایک سیاسی جماعت کا قبضہ قبول نہیں بلکہ اس پر پاکستان بھر کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ صرف ایک سیاسی جماعت تشہیر کی بجائے حکومتی اقدامات نہ صرف وفاق اور پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی برابر نمائندگی ملنی چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کوریج کے تناسب کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں خبروں کا کیا تناست رہا ہے ،خبرنامہ اور براہ راست نشریات کے حوالے سے۔ قومی ایشوز کم اور ن لیگ جماعت کی ترجمانی زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی اور ریاستی چینل ہے صرف ایک سیاسی جماعت کے دفاع میں نشریات جاری نہیں ہونی چاہیے۔ دیگر صوبوں کی پروجیکشن بھی ہونی چاہیے۔ پاکستان ٹیلی ویڑن کو حکومتی ترجمان چینل بنانے کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں کے ترجمان کے طور پر چینل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ یہ ایک سیاسی چینل بن چکا ہے اور صرف ایک ہی پروپیگنڈے پر کام کر رہا ہے۔ملک کی مثبت چیزیں دکھانا چاہیں مگر بدقسمتی سے پی ٹی وی دیگر سیاسی جماعتوں کے حوالے سے منفی چیزیں نشر کر رہا ہے۔ پی ٹی وی کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ خبر کی روح سے یہ اصول ہوتا ہے کہ ہمیشہ اپوزیشن کی خبریں زیادہ نشر کی جائیں اور حکومتی ترجمانی کم کی جائے ایک بیلنس رکھنا چاہیے۔رکن کمیٹی سینیٹر غوث محمدنیازی نے کہا کہ قومی خبرنامہ ہوتا ہے اور حکومت کی کارکردگی پوری دنیا کو دکھانا ہوتی ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ پی ٹی وی پر علاقائی، خواتین اور بچوں کے پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔رکن کمیٹی سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا کہ جب اداروں میں پارٹی وائز افراد کا تقرر کیا جائے گا تو ادارے کی کارکردگی تباہی کی طرف جائے گی ہر نئی حکومت آنے پر ایم ڈی سمیت عملہ تبدیل کر لیا جاتا ہے اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی ایک وسیع ادارہ ہے اور اس میں آمدن بڑھانے کے متعدد شعبے موجود ہیں۔ یہ عوام کے ٹیکس پر چلایا جارہا ہے اس چینل کو عوامی ایشوز کو موثر وقت دینا ہوگا۔ جس پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی وی ایک قومی چینل ہے اور ٹاک شوز میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ پی ٹی وی پر جو خبر چلائی جاتی ہے اس کی آج تک تردید نہیں کی گئی۔ صوبہ پنجاب کی خبر وزیراعلیٰ پنجاب کی درخواست پر چلائی جاتی ہے باقی وزرا علیٰ بھی آگاہ کریں تو ضرور خبر چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کی براہ راست کوریج کرائی جاتی ہے۔پی ٹی وی پارلیمنٹ کا ایک نیا چینل بھی بنایا جارہاہے جس میں کمیٹیوں کی براہ راست کوریج دکھائی جائے گی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایک نااہل وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کی تین تین گھنٹے قومی چینل کس طرح نشریات براہ راست دکھا سکتا ہے۔جس پروفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ محمد نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اوریہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کی کوریج کراؤں اور میں یہ صوابدیدی اختیارات کے ساتھ کر سکتی ہوں۔ وہ ایک لیڈر ہیں اور کیبنٹ نے اس پالیسی کا اختیار مجھے دے رکھا ہے۔اگر وہ 5 گھنٹے بھی تقریر کریں گے تو براہ راست نشریات جاری ہونگی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس طرح کی نشریات پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں عوام کے ٹیکس سے اکٹھے ہوئے والے پیسوں سے کس طرح ایک شخص کی پروجیکشن کی جا سکتی ہے۔ کل کو پی ٹی وی ہوم اور سپورٹس پر بھی نواز شریف کو دکھائیں گے ایسا نہ ہو کہ پی ٹی وی ہوم پر مجھے کیوں نکالا کے عنوان سے ڈرامہ چل جائے۔ پی ٹی وی کو جمہوری طریقے کی بجائے ڈکٹیٹر شپ طریقے کی طرح چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 



قائمہ کمیٹی



© Copyright 2018. All right Reserved