اتوار‬‮   27   مئی‬‮   2018

تربیلا اور گدوپاور سٹیشنز ٹرپ کرگئے، ایک ماہ کے دوران دوسرا بڑا بریک ڈاؤن، پنجاب اور کے پی کے میں گھنٹوں بجلی بند


اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )رمضان کی آمد ،حکومتی دعویٰ ہوا تحلیل ہو گیا، ایک ماہ میں ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا بجلی کا بریک ڈاؤن ،تربیلا اور گدو پاور پلانٹ میں فنی خرابی کے باعث پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی، صبح 9بجے کے قریب اچانک بجلی غائب ہونے پر ہسپتالوں، سکولوں اور دفاتر میں اندھیرا چھا گیا اور روز کے معمولات زندگی متاثر۔ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات کے تعین کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن وسیم مختار کی سربراہی میں 4 رکنی انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ وفاقی وزیر اویس لغاری کو دے گی۔این ٹی ڈی سی کے مطابق کہ بریک ڈاؤن کی وجہ بجلی کی کم پیداوار ہے، سالانہ نہر بندی کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر، ایندھن کی کمی کے باعث تھرمل پاور پلانٹس بھی کم ترین مقدار میں بجلی پیدا کر رہے ہیں، طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے سسٹم ٹرپ ہو گیا۔ سندھ اور بلوچستان کو ٹرانسمیشن نظام میں لگائے گئے پروٹیکشن سسٹم نے بجلی کے بریک ڈان سے بچا لیا، ،تربیلا اور گدو پاور پلانٹس سے بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی،بیشتر شہروں میں سپلائی بحال کردی گئی، بجلی کی مجموعی پیداوار 12 ہزارمیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق ٹرانسمیشن سسٹم ٹرپ کرنے سے ،تربیلا اور گدو پاور پلانٹس کی سپلائی لائنز بھی ٹرپ کر گئیں جب کہ سندھ اور بلوچستان کو ٹرانسمیشن نظام میں لگائے گئے پروٹیکشن سسٹم نے بجلی کے بریک ڈا ؤن سے بچا لیا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے بجلی سپلائی کرنے والے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہونے اور بجلی کے بریک ڈا ؤن کی وجہ سے لاہور، ملتان،وہاڑی، چشتیاں، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، لکشمی چوک، رحیم یار خان، ساہیوال، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ، فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا سمیت خیبرپختونخوا کے اکثر شہروں میں بجلی بند ہو گئی۔ سیکرٹری پاور ڈویژن سمیت متعلقہ حکام نیشنل پاور کنٹرول سینٹر پہنچ گئے ۔اچانک بجلی غائب ہونے پر ہسپتالوں،سکولوں اور دفاتر میں اندھیرا چھا گیا اور روز کے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ ترجمان وزارت بجلی کا کہنا ہے 500 کے وی غازی بروتھا لائن بحال کر دیا جس کو نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ۔بجلی کی فراہمی کا پورا نظام میں بہتری آگئی اور پیداوار 12000میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے ۔ بریک ڈاؤن کے بعد پورے پارلیمنٹ ہاؤس کی بجلی بھی بند رہی جبکہ پارلیمنٹ کے کچھ فلورز کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کی گئی ۔۔دوسری جانب وزارت بجلی نے تحقیقات کیلئے 4 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا دی، کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن وسیم مختار کریں گے۔ کمیٹی میں بجلی امور کے 3 ماہرین بھی شامل ہیں۔ ترجمان وزارت بجلی کے مطابق کمیٹی تحقیقات کر کے بریک ڈاؤن کی وجوہات کا جائزہ لے گی اور رپورٹ وزارت پاور ڈویژن کو پیش کرے گی۔وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کا واقعہ پہلے بھی رونما ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا وزارت کی جانب سے بجلی بحران سے متعلق ترجمان نے بیان دے دیا ہے، بجلی بریک ڈاؤن سے متعلق تفصیلات لے رہا ہوں۔بجلی فراہم کرنے والے سپلائی سسٹم میں فنی خرابی کے باعث لاہور سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بیشترعلاقوں میں کئی گھنٹوں بجلی کی فراہمی بند رہی ۔ 


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved