بدھ‬‮   23   مئی‬‮   2018

پیسے کس کس سیاستدان کو دیئے؟ مقصد کیا تھا؟رقم کہاں سے آئی؟فیصلہ کس سطح پر ہوا؟کون شامل تھا؟ سابق جنرلز سے تفتیش


اسلام آباد ( خصوصی نیوز رپورٹر)اصغر خان کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے طلب کیے جانے پر سابق آرمی چیف جنرل ( ر) مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) اسد درانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے اپنے فیصلے میں حکومت کو اصغر خان کیس پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کیس کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ذرائع کے مطابق اصغر خان کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اسد درانی کو تحقیقات کے لیے طلب کیا۔ سابق آرمی چیف جنرل ( ر) مرزا اسلم بیگ پہلے کمیٹی میں پیش ہونے کے لیے اسلام آباد میں ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پہنچے جب کہ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) اسد درانی ان کے کچھ دیر بعد ایف آئی اے کے دفتر پہنچے۔ جنرل ( ر) مرزا اسلم بیگ کچھ دیر بیان ریکارڈ کرانے کے بعد واپس روانہ ہوگئے جب کہ اسد درانی نے کمیٹی روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرایا ذرائع کے مطابق مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی اپنے ساتھ دستاویزات لے کر آئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ مرزا اسلم بیگ اور اسد رانی کو ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ روز طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے احسان صادق تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کررہے ہیں جب کہ کمیٹی میں ڈاکٹر عثمان انور، ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان اور قانونی معاونت کے لیے ڈائریکٹر لاء علی شیر جاکھرانی بھی کمیٹی میں شامل ہیں ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عثمان انور پہلے بھی کیس میں بیانات لے چکے ہیں لیکن احسان صادق دن کو دوبارہ مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے بیانات لئے۔ ذرائع کے مطابق مرزا اسلم بیگ سے پوچھا گیا کہ رقم کیسے آئی؟ کس کے حوالے کی؟ یہ فیصلہ کس سطح پر کیا گیا؟ کون کون اس میں ہمراہ تھا؟ کس کس سیاستدان کو پیسے دینے کا فیصلہ ہوا؟ اور اس کا مقصد کیا تھا؟ ذرائع کا بتاناہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے اسد درانی سے پوچھا گیاکہ پیسوں کا انتظام کس نے کیا اور پیسے کہاں سے آئے؟ کس طرح بانٹے گئے، ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی دیگر سیاستدانوں کو بھی طلب کرے گی


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved