ہفتہ‬‮   18   اگست‬‮   2018

لندن فلیٹ، بیرونی اثاثے ، نوازشریف و مریم کل صفائی پیش کرینگے، 127 سوالات کے جواب طلب


اسلام آباد(خصوصی نیوزرپورٹر) احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف زیر سماعت ایون فیلڈز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے کل طلب کیا ہے۔ ان کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ342 کے تحت ریکارڈ کیا جائے گا جس میں سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کو ان کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں صفائی کا موقع فراہم کرنا ہے کہ اگر وہ بیرون ملک جائیداد اور کاروبار کے بارے میں کوئی شواہد پیش کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف دبئی میں گلف سٹیل ملز کے قیام، لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ریفرنس شامل ہیں جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر ایون فیلڈ پراپرٹیز میں ملزمان ہیں۔ احتساب عدالت پہلے ہی عدم پیشی پر حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ بدھ کو سماعت کے موقع پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کے پراسیکیوٹر مظفر عباسی اور وکیل صفائی امجد پرویز کو ملزمان کے لیے تیار کیا گیا سوال نامہ پیش کیا۔ یہ سوال نامہ 127 سوالات پر مشتمل ہے جس میں نواز شریف کے ان ریفرنسز میں بطور ملزم نامزد ہونے کے ساتھ ساتھ بے نامی جائیداد کے مالک ہونے اور عوامی عہدے کے غلط استعمال سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر ان ریفرنسز میں 60 سے زیادہ مرتبہ عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ احتساب عدالت میں ملزمان کے خلاف لندن فلیٹس سے متعلق عدالتی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ احتساب عدالت ملزمان کے خلاف دائر ریفرنس پر عدالتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے پہلے ہی ان کی مدت میں تین بار توسیع دے چکی ہے۔عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو نو جون تک اپنی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved