بدھ‬‮   23   مئی‬‮   2018

اسمبلی کمیٹی ،چیئرمین نیب کی عدم پیشی ، منگل کو پھر طلب


اسلام آباد(وقائع نگار )چیئرمین نیب نے نواز شریف پر 4.9 ملین ڈالر کی بھارت منی لانڈرنگ کے الزام پر قائمہ کمیٹی میں طلب کیے جانے پر بدھ کو پیشی سے معذرت کرلی جسے کمیٹی نے قبول کرتے ہوئے انہیں 22 مئی کو دوبارہ طلب کرلیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی رانا حیات کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب کو بھی کے لیے طلب کیا تھا۔چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر معاملے پر بریف کرنے اور اپنے ساتھ متعلقہ افسران کو لے کر آنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق نیب آفس کی جانب سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین نیب نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ چیئرمین نیب کی جانب سے جواب دیا گیا ہے کہ کمیٹی میں پیش ہونے کا نوٹس صبح موصول ہوا، پہلے سے میٹنگز اور مصروفیات کا شیڈول طے تھا لہذا کمیٹی میں پیش ہونے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش ہونے سے معذرت نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی بنیاد پر کی۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جاری ہے، جس میں اہم مقدمات کا فیصلہ ہونا ہے، ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ پہلے سے طے تھی۔ اس لئے کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آ سکتا۔ کمیٹی نے نیب کی جانب سے نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات کا جائزہ لینا تھا۔ذرائع کے مطابق پہلے کمیٹی نے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی معذرت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔کمیٹی کی جانب سے معذرت مسترد کیے جانے کے بعد نیب حکام نے چیئرمین نیب کی جانب سے حتمی طور پر آگاہ کیے جانے کا وقت مانگا اور بعد ازاں نیب کی جانب سے حتمی طور پر جسٹس (ر)جاوید اقبال کی آج پیشی سے معذرت سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔نیب کی جانب سے چیئرمین نیب کی نمائندگی کے لیے دو افسران کمیٹی میں پیش ہوئے جنہوں نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جانب سے پیشی سے معذرت سے آگاہ کیا اور مہلت طلب کی۔قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے چئیرمین نیب کی معذرت قبول کرلی اور نیب کی مہلت پر چیئرمین کمیٹی چوہدری اشرف نے ارکان سے رائے لے کر چیئرمین نیب کو پیشی کے لیے جمعہ تک کا وقت دیا۔کمیٹی کی جانب سے جمعہ کو طلب کیے جانے پر نیب افسران نے کمیٹی سے درخواست کی کہ چیئرمین نیب کو جمعہ کی بجائے آئندہ ہفتے میں طلب کیا جائے جس پر چوہدری اشرف نے ارکان سے رائے مشورہ شروع کردیا جس دوران بعض ارکان نے چیئرمین نیب کو منگل کے روز بلانے کا مشورہ دیا، اس پر چیئرمین کمیٹی چوہدری اشرف نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو 22 مئی کو طلب کرلیا۔دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے پیپلز پارٹی کے دو ارکان نے با ضابطہ طور پر استعفے سپیکرسردار ایاز صادق کوبھجوا دیئے ، سید نوید قمر اور شگفتہ جمانی نے اپنے استعفوں میں موقف اپنایا کہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مقصدچیئرمین نیب کو بلوا کر ان پر سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات پر پریشر ڈالنا ہے، عجلت میں بلائی گئی میٹنگ کے بارے میں میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا، یہ نہ صرف پارلیمانی اقدار کے خلاف بلکہ نیب کی آزادانہ تحقیقات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
چیئرمین نیب ،طلب


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved