بدھ‬‮   17   اکتوبر‬‮   2018

بجٹ ، صرف 91اراکین نے بحث میں حصہ لیا




اسلام آباد(ناصر نقوی سے)قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2018-19پر مجموعی طور پر 91اراکین اسمبلی نے 23گھنٹے اور 41منٹ بحث میں حصہ لیا جبکہ مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ ق ،مسلم لیگ ضیاء،نیشنل پارٹی،عوامی مسلم لیگ،قومی وطن پارٹی ،بی این پی(عوامی) اور آزاد اراکین میں سے کسی رکن اسمبلی نے بحث میں حصہ نہیں لیا۔قومی اسمبلی کے 342اراکین کے ایوان میں سے صرف 91اراکین اسمبلی نے وفاقی بجٹ 2018-19پربحث میں حصہ لیا۔ وفاقی بجٹ 2018-19پرمسلم لیگ ن کے 26اراکین اسمبلی نے 5گھنٹے31منٹ بحث کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 20اراکین اسمبلی نے 6گھنٹے 53منٹ بحث میں حصہ لیا جس میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کی 3گھنٹے 5منٹ کی تقریر بھی شامل تھی۔ وفاقی بجٹ 2018-19پرپاکستان تحریک انصاف کے 19اراکین اسمبلی نے 4گھنٹے 11منٹ،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 8اراکین اسمبلی نے دو گھنٹے 36منٹ ،جمیعت علمائے اسلام(ف) کے 7اراکین اسمبلی نے ایک گھنٹہ 13منٹ،جماعت اسلامی کے 4اراکین اسمبلی نے ایک گھنٹہ 8منٹ،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے دو اراکین اسمبلی نے 42منٹ،عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رکن نے 22منٹ،آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک رکن اسمبلی نے 20منٹ،فاٹا کے ایک رکن اسمبلی نے 19منٹ،نیشنل پیپلز پارٹی کی ایک رکن اسمبلی نے 14منٹ اور عوامی جمہوری اتحاد کے ایک رکن اسمبلی نے 12منٹ بحث میں حصہ لیا جبکہ مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ ق ،مسلم لیگ ضیاء،نیشنل پارٹی،عوامی مسلم لیگ،قومی وطن پارٹی ،بی این پی(عوامی) اور آزاد اراکین میں سے کسی رکن اسمبلی نے بحث میں حصہ نہیں لیا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی بجٹ تقریر ایک گھنٹہ پانچ منٹ پر مشتمل تھی جبکہ انہوں نے اپنی 21منٹ کی تقریر میں بجٹ پر جاری بحث کو سمیٹ لیا۔



© Copyright 2018. All right Reserved