ہفتہ‬‮   18   اگست‬‮   2018

پہلے انفراسٹرکچر کی تعمیر پھر انضمام، فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ اسمبلی کریگی ، حکومت


اسلام آباد (نا مہ نگار نگار خصوصی )قومی اسمبلی میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ فاٹاکوخیبر پختونخوا میں ضم نہیں کیا جا رہا ،فاٹا اصلاحات سے متعلق بل صرف صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو مختص کرنے کے حوالے سے ہے بل کا اطلاق انضمام کے بعد ہو گا، 2018میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن فاٹا میں نہیں ہوں گے،فاٹا کا انضمام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہاں انفراسٹرکچر نہیں بنے گا،ٖفاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا اختیار آئندہ آنے والے اسمبلی کے پاس ہوگا۔جمعیت علماء اسلام (ف)،ایم کیو ایم پاکستان اور فاٹا سے رکن بلال الرحمان نے کہا کہ فاٹا ریفارمز کا پہلا مرحلہ وہاں امن کا قیام، دوسرا انفراسٹرکچر کی بہتری اور تیسرا مرحلہ انکے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، حکومت پہلے 2مرحلوں کو چھوڑ کر فاٹا کاخیبرپختونخوا میں انضمام نہ کر کے اپنا وعدہ پورا کرے،انضمام سے قبل فاٹا میں ریفرنڈم کرویا جائے کہ فاٹا کی عوام الگ صوبہ چاہتی ہے یا خیبر پختونخوا میں انضمام،انضمام میں جلد بازی عالمی دباؤ کے تحت کی جا رہی ہے۔تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی ،قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کیا جائے،پارلیمان کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتی، اگر فاٹا سے دہشت گردی ختم کرنی ہے تو انضمام کیا جائے ،حکومت کی جانب سے انضمام کی بجائے صرف صوبائی اسمبلی کی نشستیں مختص کرنے کا بل لانا افسوسناک ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شادی ابھی ہوئی نہیں اور بچوں کے رشتے ہونا شروع ہو گئے ہیں، کسی نا مکمل آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی۔بدھ کو قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ نے کہا کہ فاٹا کے لوگوں کی اکثریتی رائے ہے کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہو، اپوزیشن کی تمام جماعتیں انضمام پر متفق ہیں فاٹا سے رکن قومی اسمبلی بلال الرحمان نے کہا کہ فاٹا ریفارمز پر جب کام شروع ہوا تو فاٹا کے پارلیمنٹیرینز نے ساتھ دیا، فاٹا ریفارمز کیلئے کمیٹی نے فاٹا کا دورہ کیا تو عوام نے فاٹا ریفارمز کا مطالبہ کیا، حکومت کے ساتھ جب ہماری بات ہوئی تو حکومت نے کہا کہ پہلے فاٹا میں انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) انضمام کے حق میں ہیں جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ فاٹا انضمام آخری مراحل میں ہے اور تکمیل تک پہنچ رہا ہ ۔ ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ فاٹا کی عوام میں ریفرنڈم ہونا چاہیے تھا کہ وہ الگ صوبہ چاہتے ہیں یا خیبرپختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ رواج ایکٹ غلطی سے سیفران کمیٹی میں گیا، قانون سازی صرف قانون و انصاف کمیٹی میں ہو سکتی ہے، فاٹا انضمام سے متعلق کوئی بل نہیں لایا جا رہا، 2018کے انتخابات میں فاٹا میں کوئی صوبائی اسمبلی کا انتخاب نہیں ہو گا،2018میں فاٹا کا کوئی سٹیٹس تبدیل نہیں کر رہے، جو بل لایا جارہا ہے اس میں صرف صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو مختص کرنے کے حوالے سے ہے، یہ بل انضمام کے بعد وہاں لاگو ہو گا پیپلز پارٹی کے عبدالستار بچانی نے کہا کہ گزشتہ روز سے باتیں ہورہی ہیں کہ فاٹا کا انضمام ہورہا ہے مگر آج تو کچھ اور ہی سامنے آیا ہے پیپلز پارٹی کسی نا مکمل آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved