منگل‬‮   16   اکتوبر‬‮   2018

بجلی کے تاریخی بریک ڈاؤن نے حکومتی دعوؤں کاپول کھول دیا




اسلام آباد (رپورٹ،عمرحیات خان ) بجلی کے ناکارہ ترسیلی نظام کا پول کھل گیا،ملکی تاریخ کے بجلی کے سب سے بڑے بریک ڈاؤن نے حکومتی دعوؤں کی نفی کردی ، وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے صحافیوں چبھتے ہوئے سوالات سے بچنے کیلئے پریس کانفرنس کے مشورے کو رد کردیا ، 2016میں ملک میں بجلی کی پیداواری استعداد 25ہزار میگاواٹ تھی جبکہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ دور حکومت میں11ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی گئی،2013میں ملکی مجموعی بجلی کی پیداوار 14ہزار میگاواٹ تھی اگر موجودہ حکومت نے 11ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل کی ہے تو ہے مجموعی پیداوار 25ہزار میگاواٹ ہونی چاہئے تھی ، رواں ماہ کی 12تاریخ کو بجلی کی پیداوار 20ہزار میگاواٹ تک پہنچی تھی ، جبکہ جون 2017میں بجلی کی پیداوار 19ہزار 200میگاواٹ تھی ، موجودہ حکومت نے بجلی کے ناکارہ ترسیلی نظام کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جاتا ہے اور 200ارب روپے عوام سے لائن لاسسز جو کہ ترسیلی نظام میں سقم ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں عام صارفین سے بجلی کے بلوں میں وصول کئے جاتے ہیں ۔گزشتہ روز تربیلا ، گدو اور منگلا کا بجلی کا نظام اچانک ٹرپ ہوگیا جس سے ایک طرف ناکارہ نظام اور دوسری طرف حکومت کی نااہلی سامنے آگئی ۔پاکستان میں 2016تک ہائیڈل توانائی منصوبے کی پیداواری استعداد 6823میگاواٹ تھی ، تھرمل کی پیداواری استعداد 4811میگاواٹ ، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کی پیداواری استعداد 2016کے آخر تک 11612میگاواٹ تھی ، کے الیکٹرک کی پیداواری استعداد 1756میگاواٹ، پاکستان اٹامک انرجی 1127میگاواٹ ، نندی پور پاور پلانٹ 425میگاواٹ اور قائد اعظم سولر پارک کی پیداواری استعداد 100میگاواٹ تھی ۔ ملک میں توانائی بحران نہیں بلکہ بنائے گئے منصوبوں سے استعداد کے مطابق بجلی حاصل نہیں کی گئی ، جس کی وجہ سے توانائی بحران پیدا ہوتا ہے ، حکومت کی جانب سے انڈسٹریز کو بھی رمضان کے مہینے میں 10گھنٹے لوڈشیڈنگ کا تحفہ دیا گیا ہے ، جس سے فیکٹریوں میں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے ۔ 



© Copyright 2018. All right Reserved