بدھ‬‮   23   مئی‬‮   2018

انضمام ناقابل قبول ، فاٹا پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دینگے، فضل الرحمان


اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہاحکومت نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے بد عہدی کی فاٹا کا خود ساختہ حل مشکلات بڑھائے گا فاٹا کا معاملہ خود وہاں کے عوام کی مرضی سے طے ہو نا چاہیے وہ گذشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ نواز شریف کے بیان کی تحقیقات ہو نی چاہیے وہ ذمہ دار عہدے پر تین مرتبہ رہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے ملک میں انقلاب لائے گی قبل ازیں ایوان میں مولانا فضل الرحمان نے فاٹا انضمام کے معاملہ پر ریفرنڈم کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے عوام انضمام کے حق میں ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں ان کو شامل کیا جائے، جب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی، چھ ماہ قبل جب حلقہ بندیوں کے حوالے سے ترمیم لائی گئی تھی تو اس وقت بھی واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق فاٹا پر نہیں ہوگا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے ملکی معیشت کی ترجیحات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے جو لائق تحسین ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسا قانون بنائے جو پاکستان کے آئین کے منافی ہو اور ہم اس کی حمایت پر مجبور ہوں تو یہ غلامی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف گزشتہ 15 سالوں سے جنگ ہو رہی ہے، ہمیں آپریشن کے طریقہ کار پر اختلاف تھا تاہم ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہم نے راستہ نہیں روکا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے معاملہ سیفران کی وزارت اور سیفران کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا میں نہیں سمجھتا کہ قبائلی عوام پر مسلط کردہ فیصلے کو قبائلی قبول کریں گے‘ اس سے مشکلات پیدا ہوں گی ہم انضمام کے خلاف نہیں، اگر فاٹا کے عوام انضمام کے حق میں ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں ان کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی، چھ ماہ قبل جب حلقہ بندیوں کے حوالے سے ترمیم لائی گئی تھی تو اس وقت بھی واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق فاٹا پر نہیں ہوگا


loading...
© Copyright 2018. All right Reserved