بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

ماضی کے حکمرانوں نےملکی بنیادوں کوکمزور کردیا،محمود خان


تین کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمود خان
کمزوریوں کو دور کر کے خوشحال خیبرپختونخوا اور پاکستان کی عمارت کھڑی کرنی ہے بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط اور دیرپا بنایا جارہا ہے
عوام بلدیاتی انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور ایسے لوگوں کو نمائندگی کا حق دیں جو علاقے کی ترقی کا جذبہ رکھتے ہوں،گفتگو
پشاور(بیورورپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع چترال اور بونیر سے مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنمائوں، بلدیاتی نمائندوں اور کارکنان کی تحریک انصاف میں شمولیت کا خیر مقدم کیا ہے۔ اُنہوں نے چترال اور بونیر کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیا کہ پورے صوبے کی ترقی و خوشحالی انہیں عزیز ہے۔ تمام اضلاع کو پورا حق دیا جائے گا ۔ ہمیں اس وقت ہمہ گیر چیلنجز درپیش ہیں تاہم ان سے نمٹنے کیلئے ہمہ گیر حکمت عملی بنائی گئی ہے ہم نے ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہے اور کمزوریوں کو دور کر کے خوشحال خیبرپختونخوا اور پاکستان کی عمارت کھڑی کرنی ہے بلدیاتی نظام کو مزید موثر ، مضبوط اور دیرپا بنایا جارہا ہے ۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب دونوں میں ایک ہی بلدیاتی نظام ہو گا۔ اضلاع میں تمام تر ترقیاتی کام بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سابق تحصیل ناظم چترال سرتاج احمد خان کی قیادت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنمائوں ، سابق و موجودہ بلدیاتی نمائندوں اور مختلف طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والی درجنوں معروف شخصیات نے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ضلع بونیر سے ویلج ناظم محمد اقبال خان اور تحصیل کونسلر شیر مالک خان کی قیادت میں مقامی نمائندوں اور سیاسی عمائدین کے ایک کثیر رکنی وفد نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی، ممبران صوبائی اسمبلی وزیرزادہ ، سیدفخر جہاں، ریاض خان، ضلعی صدر پی ٹی آئی چترال عبد الطیف، سرتاج احمد خان اور دیگر رہنمائوں نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے تحریک میں نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہا اور یقین دلایا کہ ان کا فیصلہ درست ثابت ہو گا اور وہ تبدیلی کی نقیب جماعت سے منسلک ہو کر مطمئن اور خوش رہیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام بلدیاتی انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور ایسے لوگوں کو نمائندگی کا حق دیں جو علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں کام کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہوں وزیراعلیٰ نے اس موقع پر چترال اور بونیر کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کا یقین دلایا اور کہاکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں ضرور ملے گا۔ محمود خان نے مزید کہاکہ سوات کے لوگ جس توجہ کے مستحق ہیں دیگر اضلاع بھی اسی توجہ کا حق رکھتے ہیں۔ وہ پورے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں سب کو ان کا جائز حق دیں گے ۔ اُنہوں نے کہاکہ چکدرہ سے چترال تک موٹروے کو سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر تجویز کیا جا چکا ہے ۔ اس موٹروے سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سابق حکومت نے ضلع اپر چترال بنانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا کرینگے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر چہ آج ہمیں ہر سطح پر مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے مگر ہم نے مل کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے گزشتہ حکمرانوں نے ملک کی بنیادیں کمزور کر دی تھیں ہم نے ان بنیادوں کو دیرپاء بناکر معیشت اور خوشحالی کی مضبوط عمارت کھڑی کرنی ہے۔
محمود خان

© Copyright 2018. All right Reserved