بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

آبی وسائل تقسیم،افغانستان پاکستان سے مذاکرات کیلئے تیارہے،معین مرستیال


دوکالم ضروری تصویر کیساتھ
بی وسائل تقسیم،افغانستان پاکستان سے مذاکرات کیلئے تیارہے،معین مرستیال
دریائے کابل کے معاملے پر معاہدہ کرکے پانی کی تقسیم کو قابل قبول بنایاجاسکتا ہے
پشاور(بیورورپورٹ)سابق افغان قونصل جنرل پروفیسر محمد معین مرستیال نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ آبی وسائل کی تقسیم پر بین الاقوا می کنونشن و ہل سنکی کنونشن کی رو سے بات چیت کیلئے تیار ہے دریائے آمور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغانستان کا معاہدہ ایک مثال ہے دونوں ممالک دریائے کابل کے حساس معاملے پر مل بیٹھ کر معاہدہ کر کے پانی کی تقسیم کو قابل قبول بنا سکتے ہیں گزشتہ روز ایریا سٹڈی سنٹر پشاور یو نیو رسٹی میں ایک روزہ قومی کانفرنس جسکا عنوان دریائے کابل کے آبی وسائل کا پائیدار استعمال اور پاک افغان تعاون کے چیلنجز اور امکانات تھا ،سے خطاب کر تے ہو ئے پرو فیسر محمد معین مر ستیا ل کا کہنا تھاکہ افغانستان پاکستان کے ساتھ آبی وسائل کی تقسیم پر بین الاقامی کنونشن و ہل سنکی کنونشن کی رو سے بات چیت کیلئے تیار ہے ان کی خوا ہش ہے کہ مل بیٹھ کر اس مسلئے کو حل کیا جا سکے اور محبت و بھا ئی چارہ قا ئم رہے انھوں نے کہا کہ دریائے آمور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغانستان کا معاہدہ ایک مثال ہے جبکہ ایران کے ساتھ بھی ان کا ملک دریائے ہلمند پر معاہدہ پر بضد ہے کیونکہ افغانستان کے دریا ئو ں اور ندی نالو ں کا پانی وافر مقدار میں ایران کو جاتا ہے ۔ اس مو قع پر وائس چانسلر یو نیو رسٹی آف پشاور پرو فیسر ڈاکٹر محمد آصف خا ن نے کہا ہے کہ وادی پشاور اور خطے کی خوشحالی کیلئے دریائے کابل میں پائیدار پانی کی دستیابی ناگزیر ہے اور دونوں ممالک دریائے کابل کے حساس معاملے پر مل بیٹھ کر معاہدہ کر کے پانی کی تقسیم کو قابل قبول بنا سکتے ہیں۔
،معین مرستیال

© Copyright 2018. All right Reserved