منگل‬‮   18   دسمبر‬‮   2018

زلزلہ کی قدرتی آفت سے بہت کچھ سیکھا ,اداروں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے ،سیکرٹری سیرا


تصویرکسیاتھ
حکومت کو عالمی معیار کے منصوبوں کیلئے اضافی بجٹ کا چیلنج درپیش ہے،فاروق تبسم
فنڈنہ ہونیکے باعث 600سے زائدتعلیمی اداروں کے منصوبوں کیلئے ٹینڈرزنہیں کرسکے ،ڈائریکٹر پلاننگ عابدغنی
مظفرآباد (بیورورپورٹ) سیکرٹری سیرا سردار محمدفاروق تبسم نے زلزلہ متاثرہ دارلحکومت مظفرآباد کا دورہ کرنے والے مڈکیئرئر مینجمنٹ پشاور کے افسران کوتعمیر نو پروگرام کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں قدرتی آفت سے زندہ بچ جانے والوں کو تعلیم ،صحت ، گورننس ، واٹر اینڈ سینی ٹیشن ، رسل و رسائل ،ماحولیات کے شعبوں میں ایرا کے ویژن Build Back Better کے تحت پہلے سے بہتر سہولیات میسر ہیں ، اس قدرتی سانحہ کو زلزلہ زدہ علاقوں کے عوام کے لئے مواقع میں تبدیل کرنے کیلئے ایرا ء ، سیراء کی ٹیم نے شبانہ روز محنت کی ہے،لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا ہے ، زلزلہ کی قدرتی آفت سے بہت کچھ سیکھا ہے ہمیں اپنے اداروں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے ،حکومت آزادکشمیر کو عالمی معیار کی تعلیم ،صحت ،سمیت دیگر شعبوں میں تعمیر کی گئی سہولیات کو چلانے کے لیئے اضافی بجٹ کا چیلنج درپیش ہے جسے ہم مختلف اوقات میں متعلقہ فورمز پر اٹھارہے ہیں . اس موقع پر چیف انجینئر سیرا چوہدری محمداسلم ، ڈائریکٹر پلاننگ عابد غنی میر ،ڈائریکٹر ایم اینڈ ای کامران وانی ،ڈپٹی ڈائریکٹر سید انیب گیلانی بھی موجود تھے .
ڈائریکٹر پلاننگ عابد غنی میر نے وفد کو بتایا کہ حکومت پاکستان کے تعاون سے زیر تعمیر منصوبوں کی تعمیر کے لئے فنڈز نہ ہونے کے باعث ان منصوبوں کی تعمیر میں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے جس کی وجہ سے تقریباً 06سو سے زائد تعلیمی اداروں کے منصوبوں کے لئے ٹینڈرزنہیں کرسکے ، جبکہ 06سو کے قریب منصوبوں پر کام مختلف مراحل میں ہے جنہیں مکمل کرنے لئے وفاقی حکو مت کی جانب سے وسائل ڈیمانڈ کے مطابق نہیں مل رہے ،اگروسائل ملیں تو ہم ان منصوبوں کو مکمل کرکے متعلقہ اداروں کے سپر دکریں ،تعمیرنو پروگرام کے تحت تعمیر ہونے والے منصوبے بلڈنگ کوڈز کے تحت تعمیر کئے گئے ہیں جاپان کے تعاون سے( سسمک زوننگ) کے تحت جائیکا نے بلڈنگ کوڈز مقررکئے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی سانحہ کی صورت میں انسانی جانوں کا کم سے کم ضیاع ہو ، پاکستانی اورکشمیر ی جو دنیا بھر میں مقیم ہیں نے تعلیمی ادارے ،ہسپتال بنا نے کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جو تعلیمی ادارے تعمیر نہیں ہوئے اُن کے طلباء انتہائی خراب موسمی حالات میں عارضی بنیادوں پر پتھروں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں ساڑھے تین لاکھ بچے انتہائی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں ،تعمیرنو پروگرام کے تحت ملنے والے فنڈز کو100فیصد استعمال کرتے ہوئے عالمی معیار کی عمارات تعمیر کی گئی ہیں ،شعبہ تعلیم کے منصوبوں کی تکمیل بڑا چیلنج ہے، زلزلہ متاثرہ علاقوں میں محکمہ سماجی بہبود کے زیر اہتمام خواتین کیلئے مختلف پروگرام شروع کئے جس سے (ٹراما) کی صورت حال کنٹرول کرنے میں مدد ملی ، (NDMA) ڈیزاسٹر کے پہلے تین مراحل پر کام کررہا ہے ،زلزلہ کی آفت میں معذور ہونے والوں کیلئے آئی سی آر سی نے مفت اعضاء لگانے کیلئے سنٹرقائم کیا ،جس سے نہ صرف زلزلہ متاثرہ علاقوں بلکہ پاکستان بھر کے معذور ہونے والے افراد مستفید ہورہے ہیں ۔قدرتی سانحات کو روکا تو نہیں جاسکتا مگر عوامی آگاہی اورا داروں کو فعال اورتعمیرات کو بلڈنگ کوڈز کے مطابق بنا کر انسانی زندگیوں کو لاحق خطرات کم کئے جاسکتے ہیں ۔
سیکرٹری سیرا

© Copyright 2018. All right Reserved