جمعرات‬‮   18   اکتوبر‬‮   2018

سینیٹ میں فواد چوہدری اور مشاہد اللہ کے درمیان ایک بار پھر تلخ جملوں کا تبادلہ

س
سینیٹ میں فواد چوہدری اور مشاہد اللہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور (ن) لیگ کے مشاہد اللہ خان کے درمیان ایک بار پھر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا لیکن گرما گرمی کے بعد دونوں میں صلح ہوگئی۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں ایک بار پھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ میں تلخ کلامی ہوئی اور ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا۔وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ایوان میں آمد پر مشاہد اللہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری پھر اجلاس میں شریک ہو گئے، یہ پہلے معافی مانگیں اس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیر نے معافی مانگ لی تھی۔مشاہد اللہ کے مطالبے پر فواد چوہدری نے کہاکہ میں کس بات کی معذرت کروں اور میں نے اس دن کب معذرت کی تھی؟ انہوں نے ایک بار پھر مشاہد اللہ خان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مشاہد اللہ نے اپنے چار بھائیوں کو پی آئی اے میں بھرتی کرایا، وہ میرے الزامات کی تردید کریں ورنہ میں اس پر قائم ہوں۔چیئرمین سینیٹ نے فواد چوہدری کو الزام تراشی سے باز رہنے کی تلقین اور مشاہد اللہ سے معذرت کرنے کو کہا جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ان لوگوں نے پی آئی اے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، سارا خاندان پی آئی اے میں لگاکر ادارے کا بیڑا غرق کردیا، ان سے کس بات کی معافی مانگوں؟فواد چوہدری کے الزامات پر مشاہداللہ خان بھی بپھر گئے اور انہوں نے وفاقی وزیر کے خلاف سخت زبان استعمال کی جس پر چیئرمین سینیٹ نے انہیں بھی معذرت کرنے کو کہا لیکن دونوں نے معذرت کرنے سے انکار کردیا۔وفاقی وزیر کے الزامات پر اپوزیشن اراکین نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ایوان میں شور شرابا شروع کردیا۔چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کو ایوان سے باہر نکالنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ وزیر صاحب معذرت کریں ورنہ آپ کو ایوان سے باہر نکالنا پڑے گا۔چیئرمین سینیٹ کی ہدایت کے باوجود وفاقی وزیر نے معذرت سے انکار کردیا۔ایوان میں شور شرابے پر سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ایوان میں کھڑے ہوکر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 26 سال سینیٹ میں ہوگئے ہیں کبھی ایسا ماحول نہیں دیکھا، ایوان کے حالات دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایسا ماحول اس لیے پیدا کیا جارہا ہےکہ ایوان میں مسائل پر بات نہ ہو۔اس دوران وزیر مملکت شہریار آفریدی اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ایوان سے لے کر باہر چلے گئے جب کہ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی بھی مشاہد اللہ خان کو لے کر صلح کرانے لابی میں لے گئے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان جرگہ ہوا جس میں آپس میں صلح ہوگئی جب کہ مشاہد اللہ خان اور فواد چوہدری ایوان میں واپس آئے تو ممبران نے ڈیسک بجا کر دونوں اراکین کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ایوان میں معافی کا کلچرختم ہونا چاہیے، جس پر چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ معافی کی روایت ہے جس کو برقرار رہنا چاہیے اور آج بلوچی جرگہ کام آ گیا۔
جملے


© Copyright 2018. All right Reserved