پیر‬‮   15   اکتوبر‬‮   2018

ڈی جی آئی ایس آئی نامزدگی،وزیراعظم کا سپہ سالارپر بھرپوراظہار اعتماد


ڈی جی آئی ایس آئی نامزدگی،وزیراعظم کا سپہ سالارپر بھرپوراظہار اعتماد
آرمی چیف نے ایک تھری سٹار جنرل کا نام بھجوایا ، وزیر اعظم نے منظوری میں تاخیر نہیں کی
اسلام آباد ( رپورٹ جاوید شہزاد ) وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نامزد لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کر کے سپہ سالار پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم کی منظوری سے ہی تھری سٹار جنرل عاصم منیر کو آئی ایس آئی کی کمان سوپنی گئی آرمی چیف کی جانب سے وزیر اعظم کو نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے لیے صرف ایک ہی تھری سٹار جنرل کا نام بھجوایا ہے جس کی منظوری دینے میں وزیر اعظم نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی ہے اور آرمی چیف کے نامزد ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری وزیر اعظم کے لیے ایک ٹیسٹ کیس اور کڑے امتحان سے کم نہ تھا مگر وزیر اعظم نے اپنے آرمی چیف کی نامزدگی کو ہی اپنی نامزدگی قرار دیتے ہوئے عاصم منیر کو انٹر سروسز انٹیلی جنس کا سربراہ مقرر کر کے فوج مین جنرل باجوہ کو عزت اور توقیر سے نواز ا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو اپنے ہر دور میں ڈی جی آئی ایس اپنی مرضی سے لگواتے رہے مگر ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس کی تقرری میں اپنی مرضی اورا تھارٹی کو ترجیح دینے کی بجائے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نامزد تھری سٹار جنرل کو آئی ایس آئی کی کمانڈ دے کر اپنے سپہ سالار کو ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف ایک پیج پر ہیں آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی ذاتی شخصیت کا خاص پہلو یہ ہے کہ وہ حافظ قران ہیں اور سعودی عرب میں دوران تعیناتی انہوں نے کتاب مقدس حفظ کی اور اپنے بیٹے کو بھی قران حفظ کروایا۔ اور پیشہ ورانہ اعتبار سے دلچسب بات یہ ہے کہ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے بجائے آفیسرز ٹریننگ سکول کے فارغ التحصیل ہیں۔ او ٹی ایس افسران ان کی تقرری کو یقیناً اپنے لئے بھی باعث فخر سمجھیں گے۔ نئی تقرری سے پہلے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر فوجی سراغرساں ادارے’’ ملٹری انٹیلی جنس‘‘ کے سربراہ تھے۔ ان کی تقرری سے امید کی جا رہی ہے کہ دونوں انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون اور ربطوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ وہ آئی ایس آئی کے ایسے نئے سربراہ ہیں جنہیں انٹیلی جنس کے دونوں شعبوں، یعنی فیلڈ انٹیلی جنس اور اطلاعات کا تجزیہ کرنے سمیت دونوں کاموں کا خاطر خواہ تجربہ ہے۔بطور فوجی افسر وہ سیاچن میں کمانڈ کر چکے ہیں اورانٹیلی جنس سربراہ کے طور پر وہ مغربی سرحد اور قبائلی علاقوں کی صورتحال کا درست ادراک رکھتے ہیں ۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی انہیں اپنے ادارے کی غیر سیاسی ساکھ بحال کرنے اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کی صورت میں اہم چیلنج درپیش ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی چیف کو ایک اچھے سپاہی کے ساتھ ساتھ عمدہ سیاست دان اور بہت اچھا تجزیہ کار بھی ہونا چاہیے کیونکہ بطور انٹیلی جنس چیف اسے انتہائی متنوع، پیچیدہ اور نازک ا نٹیلی جنس امور نمٹانے پڑتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان چونکہ دنیا بھر کی انٹیلی جنس  ایجنسیوں کی کارروائیوں کا میدان بھی ہیں اس لئے آئی ایس چیف دنیا بھر کے انٹیلی جنس سربراہان میں ہمیشہ ممتاز مقام رکھتا ہے اور اسے نہ صرف ملک اور بلکہ خطہ بلکہ عالمی سراغرسانی کے عالمی اکھاڑوں کا بھی کما حقہ علم رکھنا پڑتا ہے۔ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر وہ قومی سلامتی کے اہم ترین امور نمٹا چکے ہیں اور یہ تجربہ ان کی نئی ذمہ داریوں کو عمدہ طریقے سے سرنجام دینے میںکام آئے گا۔داخلی سلامتی کے شعبے میں انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس آپریشن’’ رد الفساد ‘‘ کو مزید مئوثر بنانا ہے کیونکہ کام ابھی ختم نہیں ہوا اور فاٹا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی اکا دکا وارداتیں جاری ہیں۔ عاصم منیر کی تقرری سے آئی ایس آئی ہیڈ کواٹرز اور جی ایچ کیو کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہو گا کیونکہ ڈی جی ایم آئی، چیف آف جنرل سٹاف، اور ڈی جی ایم او وہ تین افسران ہیںجو ہمہ وقت آرمی چیف کے ساتھ رابطہ میں ہوتے ہیں۔ ان ہی میںسے ایک افسر کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرر کا مطلب یہ ہے کہ آرمی چیف کے ایک جانے بوجھے افسر آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں۔ نئے ڈی جی آئی ایس کی تقرری کی خبر فوری طور پر عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کا موضوع بنی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ایسے وقت قومی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بنے ہیں جب امریکہ، افغانستان سے انخلاء کا ارادہ کر چکا ہے۔ جس کے باعث اس خطہ میںلڑی جانے والی چومکھی میں مزید شدت آ رہی ہے۔
اظہار اعتماد

© Copyright 2018. All right Reserved