اتوار‬‮   9   دسمبر‬‮   2018

50 لاکھ گھر ، آج سے رجسٹریشن ( آغاز، 7اضلاع سے ہوگا، چھوٹے وفاقی ملازمین کیلئے ہائوسنگ اسکیم آج سے شروع،کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے، وزیراعظم )


لیڈ
50 لاکھ گھر ، آج سے رجسٹریشن
( آغاز، 7اضلاع سے ہوگا، چھوٹے وفاقی ملازمین
کیلئے ہائوسنگ اسکیم آج سے شروع،کچی آبادیوں
کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے، وزیراعظم )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2 ماہ میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا ، ون ونڈو آپریشن کیلئے 90 روز میں ہاﺅسنگ اتھارٹی قائم ہوگی ، گھروں کیلئے اراضی حکومت فراہم کرے گی باقی کام نجی شعبہ کریگا

ابتدائی اضلاع میں فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، ڈی آئی خان، اسلام آباد، گلگت اور مظفر آباد شامل ، منصوبے سے غریبوں کو چھت ، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، عمران خان


اسلام آباد( اوصاف نیوز) وزیراعظم عمران خان نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے \'نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام\' کا افتتاح کر دیا۔منصوبے کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منصوبے سے غریبوں کو چھت میسر آئے گی، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، اقتصادی سرگرمی سے شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ون ونڈو آپریشن کیلئے 90 روز میں ہاﺅسنگ اتھارٹی کا قیام عمل لایا جائے گا، ابتدائی طور پر سات اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت رجسٹریشن کا عمل آج سے شروع ہوگا، 60 دنوں میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا۔وزیراعظم نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں کم آمدنی والے وفاقی ملازمین کیلئے جمعرات سے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اسکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے، کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، فنانسنگ سے متعلقہ رکاوٹیں دور کرنے کیلئے 60 روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے، گھروں کیلئے اراضی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی کام نجی شعبہ انجام دے گا۔وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لیے 5 سال کے دوران 50 لاکھ گھر بنانے کا ہدف ہے، 40 انڈسٹریز براہ راست گھر منصوبے سے منسلک ہوں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے کے لیے \'اپنا گھر اتھارٹی\' کے نام سے نیا ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہر شہر میں سستے گھروں کی ضروریات اور جگہ کی نشاندہی کرے گی اور اس کی نگرانی وہ خود کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ گھر منصوبے میں حکومت کا کام رکاوٹیں دور کرنا ہوگا اور ترقیاتی کام پرائیوٹ سیکٹر کرے گا اور اس منصوبے میں غیرسرکاری تنظیموں کو بھی شامل کریں گے جس میں \'اخوت\' بھی شامل ہے جس نے بے گھروں کو اپنا گھر دینے میں زبردست کام کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے ایک اتھارٹی بنائیں گے جو 90 روز میں منصوبے سے متعلق فریم ورک مکمل کرے گی۔\'پہلے رجسٹریشن کریں گے پھر گھر بنائیں گے\'وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد کی کچی آبادی کو ہٹا کر انہیں سارے حقوق کے ساتھ پراپرٹی حقوق دیں گے اور 7 ڈسٹرکٹ میں پائلٹ پراجیکٹ چلے گا جہاں لوگوں کی رجسٹریشن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گھر بنانے کی اسکیم اس لیے ناکام ہوتی آئی ہے کہ پہلے گھر بنائے جاتے ہیں اور پھر لوگوں کو ٹھہرایا جاتا ہے، لیکن ہم پہلے 60 روز میں رجسٹریشن کے عمل سے گزریں گے اور طلب کے مطابق گھر تعمیر کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ماڈل تیار کر رہے ہیں، نیشنل ریگولیشن ریگولیٹی 60 روز میں بنائیں گے جس کا کام رکاوٹیں دور کرنا ہوگا، کنسٹرکشن انڈسٹری کے راستے سے رکاوٹیں بھی دور کی جائیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ لوگ سرمایہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، اس کے لیے ہماری وزارت قانون کام کر ہی ہے اور اس کا ڈرافٹ بھی 60 روز میں سامنے آجائے گا۔ذرائع کے مطابق 50 لاکھ گھروں کے منصوبے میں نجی شعبے کو شفاف بنیادوں پر شامل کیا جائے گا جب کہ اس منصوبے کو 5 سال میں مکمل کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ابتدائی طور پر پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز 7 اضلاع میں ہوگا، جن میں فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، گلگت اور مظفر آباد شامل ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ امریکا میں 75 سے 80 فیصد لوگ قرضہ لے کر گھر بناتے ہیں، ملائیشیا میں یہ شرح 33 فیصد، بھارت میں تقریباً 11 فیصد، بنگلہ دیش میں 3 فیصد اور پاکستان میں یہ شرح صرف 0.25 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے کمپنی نے اس شعبہ میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، ملک میں ایک کروڑ گھروں کی طلب ہے، ہم پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھر بنا رہے ہیں جس سے شرح نمو بھی اوپر جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ان کیلئے بھی ہم ایک پروگرام شروع کر رہے ہیں، یہ شعبہ ہمارے منشور کا بنیادی جزو ہے۔
گھر منصوبہ، رجسٹریشن


© Copyright 2018. All right Reserved