اتوار‬‮   9   دسمبر‬‮   2018

سپرلیڈ۔۔۔دوسراانٹرو




اسلام آباد(نیوزرپورٹر)گیس، بجلی اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافی ٹیکس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکسز بہت بڑھ گئے ہیں، آج کل کے حالات میں لوگ بہت پریشان ہیں،مہنگائی میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت اوپر جارہی ہے،ایک پیسہ بھی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو یہ ریلیف عوام کو ملنا چاہیے، ہمیں بتایا جائے گزشتہ حکومت نے کیا کیا؟غلام سرور کو قیمتوں اور تعیناتیوں کا معاملہ دیکھنے کو کہا ، آج کل مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے لوگ بہت ہریشان ہیں ،مہنگائی ہے کہ پکڑ میں نہیں ہے،سابقہ حکومت نے کون سی غیر قانونی تعیناتیاں کیں، ایم ڈی کی تنخواہ کیا تھی ہمیں بتائیں ،ہم نے ایم ڈی کو بلایا تھا کیا وہ آئے ہیں،تنخواہ اور مراعات کا کیا تعین ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایم ڈی 37 لاکھ روپے تنخواہ پر تعینات کیا گیا،ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی بورڈ نے نہیں وفاقی حکومت نے کی تھی،جنوری 2015 میں پی ایس او کے ایم ڈی کی تعیناتی کا اشتہار جاری ہوا،8 درخواست گزاروں میں سے تین کو شارٹ لسٹ کرکے حکومت کو نام بھجوائے گئے، افسوس کہ پہلا پراسیس حکومت نے بلاجواز ختم کردیا،حکومت نے تعیناتی کا حکم دوبارہ کرنے کا حکم دیا،پہلے پراسیس میں ایم ڈی پی ایس او کا نام نہیں تھا،دوسری بار اپریل 2015 میں پراسیس شروع کیا گیا جس میں عمران الحق کا نام شامل تھا، اس وقت سیکرٹری ارشد مرزا اور وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی تھے، پی ایس او میں تعیناتیاں سابقہ حکومت نے کی، اقربا پروری پر تعیناتی ہوئی، قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، ایل این جی کی درآمدات سے متعلق بھی شکایات تھیں،ایل این جی کی درآمد سے متعلق نیب انکوائری کر رہا ہے، پی ایس او کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے پیپرا مددگار ہو سکتا ہے،بورڈ آف مینیجمنٹ کو اگر پیپرا ایک مہینے کے بجائے 15 دن کا ٹینڈر دے، اس سے قیمتوں میں تھوڑا بہت فرق آسکتا ہے، سابقہ حکومت نے صرف ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی کی، 37 لاکھ روپے ایم ڈی کی ماہوار تنخواہ تھی،تنخواہ اور مراعات مارکیٹ ریٹ پر دی جاتی ہیں،ایم ڈی نہیں آئے نوٹس ہی نہیں تھا،کیس کی سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس

© Copyright 2018. All right Reserved