بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

اپوزیشن کاسڑک پر اجلاس، پیپلزپارٹی کے احتجاج کی یاد تازہ ہو گئی


دو کالم،،،،،،،،
اپوزیشن کاسڑک پر اجلاس، پیپلزپارٹی کے احتجاج کی یاد تازہ ہو گئی
شہباز کی رہائی نہ ہونے پرن لیگ کی طرف سے احتجاج کا دائرہ بڑھانےکا امکان
اسلام آباد(ناصر نقوی سے)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا،اس احتجاج کو قومی اور صوبائی سطح پر بتدریج اضافے کا امکان ہے جبکہ مذکورہ احتجاج نے پیپلز پارٹی کے اسی طرح کے احتجاج کی یاد تازہ کر دی۔ مسلم لیگ ن اور ان کی اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کی طرف سے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر سڑک پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔اس اجلاس کو پارلیمنٹ ہائوس کے گیٹ نمبر ایک پر منعقد ہونا تھا تاہم میڈیا کو پارلیمنٹ ہائوس میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر یہ اجلاس پارلیمنٹ ہائوس کے باہر سڑک پر منعقد کیا گیا،اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی اور سینیٹرزنے موجودہ حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا گیاکہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی بجائے خود کشی کرنے اورکشکول توڑنے کے دعوے جھوٹے نکلے۔مذکورہ اجلاس کے دوران شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔دوسری طرف سپیکر نے 17اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اپوزیشن خصوصاً مسلم لیگ ن کی طرف سے شدید احتجاج متوقع ہے۔ شہباز شریف کی رہائی نہ ہونے پر اراکین اسمبلی کیساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کی طرف سے بڑے شہروں میں عوام کی طرف سے بھرپور احتجاج کا بھی امکان ہے اور نواز شریف کی طرف سے احتجاج کی بڑی کال بھی متوقع ہے تاہم موجود ہ حکومت میاں برادران سے کوئی نرمی برتنے پر تیارنظر نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے بجٹ کے خلاف پارلیمنٹ ہائوس کے گیٹ نمبر ایک پر عوامی اسمبلی لگائی تھی جس میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے اراکین نے خطاب کیا تھا۔
یاد تازہ

© Copyright 2018. All right Reserved