بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

غریبوں کو ماضی میں بھی ’’اپنے گھر ‘‘کے خواب دکھائے گئے( کسی حکمران کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچا)


تین کالم
غریبوں کو ماضی میں بھی ’’اپنے گھر ‘‘کے خواب دکھائے گئے( کسی حکمران کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچا)
زیلیاں
1959 میں ایوب خان نے ’’کورنگی ٹائون شپ ہائوسنگ سکیم‘‘ 1972 میں ذوالفقار بھٹو نے ’’پانچ مرلہ رہائشی سکیم‘‘ متعارف کروائی
1987 میں جونیجو نے اپنی بستی کے نام سے،1996 میں بے نظیر بھٹو،1997 اور 2014 میں نواز شریف نےغریبوں کو خواب دکھائے
اسلام آباد(عمرفاروق سے )ماضی کے حکمرانوں نے بھی عوام کیلئے بڑے بڑے منصوبے شروع کئے مگران میں سے کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوسکانئے پاکستان میں بھی اپناگھرمنصوبہ شروع کیاگیاہے اس کی تکمیل پی ٹی آئی حکومت کیلئے ایک چیلنج ہوگی ،اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان میں حکمران یہ خواب ہمیشہ سے دکھاتے آئے ہیں اور لوگ یہ خواب دیکھتے آئے ہیں۔پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ نیا نہیں۔ ایوب خان سے نواز شریف تک اپنے گھر کے خواب دکھائے گئے ہیں جو زمینی حقیقت نہیں بن سکے۔سال 1959 میں ایوب خان نے کراچی کی جھگیوں میں آباد خاندانوں کیلئے کورنگی ٹائون شپ ہائوسنگ سکیم بنائی۔سال 1972 میں ذوالفقار بھٹو نے بے گھر افراد کیلئے ’’پانچ مرلہ رہائشی سکیم‘‘ متعارف کروائی تھی۔سال 1987 میں محمد خان جونیجو نے ’’اپنی بستی‘‘ بسانے کا ارادہ کیا تھا۔ ڈیڑھ لاکھ یونٹس تعمیر کئے جانے تھے۔سال 1996 میں بے نظیر بھٹو نے بھی یہی خواب متوسط طبقے کو دکھایا تھا۔سال 1997 میں نواز شریف نے ’’ میرا گھر‘‘ کا عنوان دیا۔ بیس ہزار ایکڑ زمین حاصل کی گئی۔سال 2010 میں شہباز شریف حکومت نے’’آشیانہ ہاسنگ سکیم‘‘ کی بنیاد رکھی ۔سال 2014 میں پھر نواز شریف نے پانچ لاکھ رہائشی یونٹس کیلیے’’اپنا گھر‘‘کے خواب دکھائے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے دو ہزار کنال زمین حاصل کی گئی، مگر یہ گھرغریب اور مستحقین کیلئے خواب ہی رہے۔
اپنا گھر



© Copyright 2018. All right Reserved