بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

(بھارت روس معاہدے باعث تشویش ہے ) سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، دفتر خارجہ


سرخی
(بھارت روس معاہدے
باعث تشویش ہے )
سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، دفتر خارجہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خطے میں طاقت کا تواز ن خراب ہوگا ،اسلحہ کی دوڑ ہوجائے گی ، بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں ،ترجمان
بھارتی قابض افواج کشمیریوں کو ہراساں کرنے میں مصروف، حریت قیادت کی غیر قانونی حراست قابل مذمت ہے ، بریفنگ
اسلام آباد( آن لائن ) پاکستان نے بھارت اور روس کے درمیان دفاعی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا تواز ن خراب ہوگا اور اسلحہ کی دوڑ ہوجائے گی۔پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ، مگر بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کی صورت میں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔پاکستان اور چین اسپیشل اکنامک زونز میں تیسرے شراکت دار کی شراکت کیلئے پر امید ہیں۔ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے پاک افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئے پاکستانی سفارت خانے کا عملہ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔بین الاقوامی این جی اوز کے کام کرنے پر پابندی نہیں، پاکستان نے حال ہی میں 141 بین الاقوامی این جی اووز کے معاملات دیکھے جن میں سے 74 کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ گزشتہ روز دفترخارجہ میں ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ بھارت اور روس کے درمیان اسلحہ کی خریداری سے خطے میں عدم تواز ن پید اہوگا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی ابہام نہیں ہے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھارت کے ساتھ مزاکرات کیلئے پیش رفت کی مگر بھارتی قیادت کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کی صورت میں بات آگے نہ بڑھ سکی۔انہوںنے کہا کہ پاک ، چین اقتصادی راہداری منصوبہ پر کوئی نظر ثانی نہیں ہورہی ، اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو درست طریقے سے رپورٹ نہیں کیا گیا۔ پاکستان اورچین اسپیشل اکنامک زونزمیں تیسرے شراکت دار کی شمولیت کیلئے پرامید ہیں۔ وزیر اعظم آئندہ ماہ چین کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں جس کے دوران دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور سی پیک سے متعلق بات چیت کرینگے۔سعودی عرب کے ساتھ سی پیک میں شراکت داری پر بات چیت جاری ہے ۔ البتہ اس سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ ذلمے خلیل زاد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کیلئے راضی کرنا افغان حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈر کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، اس سلسلے میں پاکستان نے مکمل تعاون کی یقین دہائی کروائی ۔ ان کے دورہ کے دوران باہمی طور پر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور اس وجہ سے ذلمے خلیل زاد خلیجی ممالک کا بھی دورہ کررہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارتی قابض افواج کشمیریوں کو ہراساں کرنے میں مصرورف ہے۔انہوں نے حریت قیادت کی غیر قانونی حراست کے دوران سختیوں میں اضافہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات جعلی ہیں جن کا بھارت کو فائدہ نہیں ہوگا۔بیرونی ممالک میں قید پاکستانیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سعودی عرب اور تھائی لینڈ میں قید پاکستانیوں سے متعلق وہاں موجود سفارت کار انکی ممکنہ امداد کررہے ہیں۔سعودی عرب میںکنسٹریکشن کمپنی کے ساتھ پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کے حوالے سے متعلقہ کمپنی نے ایک ماہ کی تنخواہ اور واپسی کے اخراجات کے متعلق بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پاکستانیوں کو قونصلر رسائی حاصل ہے اور انکی ممکنہ امداد کی جارہی ہے۔ آئی ، این ، جی ، او کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ بین الاقوامی تنظیموںنے پاکستان میں ترقیاتی کام کررہی ہیں، پاکستان کے قوانین کے تحت انہیں کام کرنے کی منظور ی دی گئی ہے، حال ہی میں 141بین الاقوامی این جی اووز کے معاملات دیکھے جن میں سے 74 کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔آئندہ ماہ ایران پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے پاکستان کی پالیسی واضع ہے ۔ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ باہمی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے ، پاکستانی ہائی کمشنر کا ایگریما میں تاخیر سفارتی معمولات کاحصہ ہے ، پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ باہمی تعلقات کو بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
دفتر خارجہ

© Copyright 2018. All right Reserved