بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

تین کالم۔۔۔۔چیف جسٹس۔۔۔سرخی کراچی سے



تھر میں ہر صورت بچوں کی اموات رکنی چاہئیں‘ معاملے پر چیف سیکرٹری اور وزیرا علیٰ سندھ کو بلالیتے ہیں
ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دے دیتے ہیں ، ہم جلد تھر کا دورہ کرینگے،جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس
اسلام آباد (نیوزرپورٹر)چیف جسٹس نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کیس میں سندھ حکومت کو تین ہفتوں میں مثبت قدم اٹھاکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر چیف سیکرٹری سندھ‘ سیکریٹری فنانس ‘سیکرٹری ہیلتھ‘ایڈوکیٹ جنرل سندھ ‘ سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر اور سیکرٹری ورک اینڈ سروسز طلب کرلیا۔ کیس کی سماعت 11اکتوبر تک ملتوی کر دی ‘ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ تھر میں ہر صورت بچوں کی اموات رکنی چاہئیں‘بلاول بھٹو اور آصف زرداری ان علاقوں میں پیسہ خرچ کرے‘اہم معاملے پر چیف سیکرٹری اور وزیرا علیٰ سندھ کو بلالیتے ہیں ‘کیونکہ یہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے‘ ساتھ ہی ہم ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دے دیتے ہیں جوہمیں غیر جانبدار رپورٹ پیش کرے، ہم جلد تھر کا دورہ کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ،سیکریٹری فنانس ، سیکریٹری ہیلتھ ،ایڈوکیٹ جنرل سندھ ،سیکرٹری پاپولیشن ویلفئیر اور سیکرٹری ورک اینڈ سروسز سمیت اٹارنی جنرل اور درخواست گزار رمیش کمار عدالت میں پیش ہوئے۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تھر میں بنیادی مسئلہ خوراک اور پانی کی کمی ہے، جبکہ حکومت سندھ نے متاثرین کو گندم سمیت غذائی اجناس مہیا کر دی ہے، جس پر اعتراض کرتے ہوئے درخواست گزار پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا کہ بتایا جائے کہ تھر کی حالت ایسی کیوں ہوئی ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو تھر سے متعلق تین ہفتے میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہر صورت تھر میں بچوں کی اموات رکنی چاہئیں، ساتھ ہی اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری ان علاقوں میں پیسہ خرچ کرے۔اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے عندیہ دیا کہ اتوار کو وہ مٹھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
چیف جسٹس

© Copyright 2018. All right Reserved