پیر‬‮   15   اکتوبر‬‮   2018

ن لیگ کا اسمبلی کے باہر مشترکہ اجلاس ،،،،،،،،،،،،،،،اتحادیوں کی شرکت ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

علامتی احتجاجی اجلاس پی کے میپ ، جے یو آئی ف کے ارکان کی شرکت ، پی پی پی اور اے این پی کی غیرحاضری
اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی ،شہبازشریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیدیا
16اکتوبر کو قائد حزب اختلا ف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ،نیب حکومتی کی کاروائیوں کیخلاف مذمتی قراردادیں بھی منظور

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی )مسلم لیگ (ن) او ر اتحادی ارکان پارلیمنٹ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی گرفتاری کیخلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ علامتی احتجاجی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہرہ دستور پر منعقد کیا،جس میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام(ف) کے ارکان پارلیمنٹ اظہار یکجہتی کے طور پر شریک ہوئے، پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے شرکت نہ کی،ارکان نے حکومت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے،اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہبازشریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔ احتجاجی اجلاس میں 16اکتوبر کومسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ،نیب اور حکومتی کی انتقامی کاروائیوں کیخلاف ، حکومت کے 55دنوں میں معیشت کو 28ارب کا نقصان پہنچانے ، سی پیک کو متنازعہ بنانے ،آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لینے کیخلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کے مسلم لیگ (ن)کااپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی گرفتاری کیخلاف علامتی احتجاجی اجلاس سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ،اپوزیشن نے احتجاجی اجلاس کیلئے پارلیمنٹ کے گیٹ پر انتظامات کئے مگر میڈیا کیمروں کو پارلیمنٹ میں داخلے سے روکنے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہرہ دستور پر احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔جس میں مسلم لیگ (ن)کے ارکان ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹرز اعظم خان موسیٰ خیل ،عثمان خان کاکڑ،جمعیت علماء اسلام(ف) کے ارکان پارلیمنٹ سینیٹر مولانا عطاالرحمان اور رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے شرکت کی۔احتجاج میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کا کوئی رکن شریک نہ ہوا۔احتجاجی اجلاس میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ شرکا نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور انہوں نے شہبازشریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا،اجلاس میں مسلم لیگ(ن)کے رہنما رانا ثنا اللہ نے شہباز شریف کی گرفتاری کے کیس کی تفصیلات پیش کیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب نے شہباز شریف کے خلاف جو کیس بنایا ہے وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جس شخص پر 22ارب کے ڈالے کا الزام ہے اور جس کے بارے میں عمران خان نے کہا تھا کہ سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اس ڈاکو کو گرفتار نہیں کیا گیا ، ڈاکوؤں کو جس ڈاکو نے لوٹا وہ بابر اعوان ہے ، بابر اعوان کو گرفتار نہیں کیا گیا ، ہم شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں ، ہماری شنوائی نہ ہوئی تو یہ احتجاج پارلیمنٹ کے احتجاج سے آگے جائے گا ۔ رانا تنویر حسین ، سینیٹر عثمان خان کاکڑ شاہدہ اختر علی میاں جاوید لطیف سینیٹر آصف کرمانی برجیس طاہر سینیٹر مشاہد اللہ خان سینیٹر چوہدری تنویر مولانا عطا الرحمان مرتضیٰ جاوید عباسی ، راؤ اجمل ن محسن شاہ نواز رانجھا نے خطاب کیا
ن لیگ اجلاس

© Copyright 2018. All right Reserved