پیر‬‮   15   اکتوبر‬‮   2018

لیڈ۔۔۔لوکل


جسٹس شوکت صدیقی نے 21جولائی کو راولپنڈی بارمیں تقریرکے دورنا حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کاالزام لگایاتھا،سپریم جوڈیشل کونسل نے بیان پر ازخودکارروائی کی ، ریفرنس بنایا گیا

صدر مملکت نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عہدے سے ہٹانے کی منظوری دیدی، میری معزولی غیرمتوقع نہیں،اپنا مؤقف جلد عوام کے سامنے رکھوں گا، شوکت عزیز صدیقی کاردعمل

اسلام آباد(وقائع نگار,خصوصی نیوزرپورٹر،نیوز رپورٹر)متنازع تقریرکرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹادیاگیا۔جبکہ جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا ہے کہ 'سپریم جوڈیشل کونسل کا میری معزولی کی سفارش کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رواں سال 21 جولائی کو راولپنڈی بار میں تقریر کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اس بیان پر از خود کارروائی کی تھی اس حوالے سے ان کے خلاف ریفرنس بنایا گیا تھا جس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے بھی جواب جمع کرایا گیا جب کہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی ان کے بیان کا ریکارڈ طلب کیاتھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی ایک میٹنگ یکم اکتوبر کو ہوئی جس کے بعد اب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی متفقہ سفارش کی گئی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جس کی ایک نقل وزیراعظم ہاؤس اور ایک جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی بھجوادئی گئی۔سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی جب کہ وزارت قانون نے بھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ دریں اثنا سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر معطل ہونے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا رد عمل سامنے آگیا۔ جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا ہے کہ 'سپریم جوڈیشل کونسل کا میری معزولی کی سفارش کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں۔انہوں نے کہا کہ 'تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پر بے بنیاد ریفرنس بنایا گیا، سرکاری رہائش گاہ کی آرائش کے متعلق ریفرنس سے کچھ نہ ملا تو خطاب کو جواز بنا لیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید کہا کہ 'میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرنس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا، نہ ہی میری تقریر میں بیان کیے گئے حقائق کو جانچنے کیلئے کوئی کمیشن بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اپنا تفصیلی مؤقف بہت جلد عوام کے سامنے رکھوں گا۔


جسٹس شوکت،ہٹادیا

© Copyright 2018. All right Reserved