بدھ‬‮   12   دسمبر‬‮   2018

سپرلیڈ۔۔۔لوکل



تحقیقاتی کمیٹی بنانے کااعلان، اپنا ہاؤسنگ سکیم کی منظوری ،ایئر وائس مارشل ارشد خان چیئرمین پی آئی اے، میاں محمد سومر و چیئرمین نجکاری کمیشن، عون عباس کو ایم ڈی بیت المال تعینات
سیاسی بنیادوں پر ای سی ایل میں شامل نام نکالنے کافیصلہ،  قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پڑرہے ہیں ، عمران خان ، لوٹامال واپس لانے کیلئے اپوزیشن ساتھ دے، وزیر اطلاعات کی بریفنگ

اسلام آباد (وقائع نگار)وفاقی کابینہ نے گزشتہ دس سال میں لیے قرضوں کا آڈٹ اورسیاسی انتقام کا نشانہ بننے والوں کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا، گزشتہ 10سالوں میں 28ہزار ارب روپے بیرونی قرضے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائیگی ۔ جس میں اپوزیشن کو مساوی نمائندگی ملے گی ۔ پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ان قرضوں کے غلط استعمال کرنے والوں کی نشاندہی کریں اور ان چہروں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ قوم قرضوں سے ملک کر جکڑنے والوں کا چہرہ جان سکے۔ پارلیمانی کمیٹی کو اختیار ہوگا کہ وہ قرضوں کے غلط استعمال کرنے والے سابق حکمرانوں کے خلاف مقدمات دائر کرسکیں۔ ایئر وائس مارشل ارشد ملک چیئرمین پی آئی اے۔میاںمحمد سومر و چیئرمین نجکاری کمیشن اور عون عباس کو ایم ڈی بیت المال تعینات کر دیا گیا ہے۔ اپنا ہاؤسنگ سکیم کی منظوری ،ہیلتھ کارڈ جلد جاری کئے جائیں گے ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے گزشتہ دس سال میں لیے قرضوں کا آڈٹ اورسیاسی انتقام کا نشانہ بننے والوں کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب پر پہنچ گیا ہے۔ وزارت خزانہ سے قرضوں سے متعلق تفصیلات پوچھی ہیں۔ وزارت خزانہ سے پوچھا کہ قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا۔ ماضیکے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پڑرہے ہیں۔ نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم ایک اہم منصوبہ ہے۔ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے منصوبے کا آغاز کررہے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل سے ہماری معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ قوم کے اربوں روپے لوٹ کر کھا گئے۔ اورنج لائن ٹرین کے لئے مزید قرض لینا پڑے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیے گئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت پڑ رہی ہے، دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ارب روپے ہوگیا ہے، وزارت خزانہ سے قرضوں سے متعلق تفصیلات پوچھی ہیں، وزارت خزانہ بتائے دس برسوں میں لیا گیا قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ اورنج ٹرین میں تو خسارہ ہے اس کے لیے مزید قرضے لینے ہوں گے۔نیا پاکستان ہاسنگ اسکیم سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہاسنگ پراجیکٹ سے تعمیراتی صنعت میں ترقی ہوگی۔  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 10 سال کے دوران معاشی حالت پر بھی کمیشن بننا چاہیے،پی آئی اے پر 406 ارب قرض ہے، ایئر وائس مارشل ارشد ملک کو چیئرمین پی آئی اے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، میاںمحمد سومر و چیئرمین نجکاری کمیشن اور عون عباس کو ایم ڈی بیت المال تعینات کر دیا گیا ہے،،ایف بی آر میں اصلاحات کو سامنے لایا جائے گاوفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپنا ہاؤسنگ سکیم کی منظوری دی گئی اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبے کا جامع آڈٹ کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے قرضہ کتنا لیا جائے گا، اس بارے میں اسد عمر سے بات نہیں ہوئی، مخالفین ہمیں ٹاک شو میں آ کر بتاتے ہیں کہ کرنا کیا ہے، اگر ان کی پوزیشن بہتر ہوتی آج یہ حالات نہ ہوتے، اپوزیشن شورمچانے کے بجائے الزامات کا جواب دے، نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم مکمل طور پر محفوظ اسکیم ہے، غریب عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہیلتھ کارڈ اسکیم کا اجراء کیا جا رہا ہے، رواں سال کے آخر تک غیر قانونی موبائل فون پاکستان میں کام نہیں کر سکیں گے، سگریٹ مافیا کے خلاف بڑے کریک ڈائون کا فیصلہ کیا گیا ہے، شہباز شریف کے ایوان میں آنے سے پارلیمنٹ کو ان سے سوال کرنے کا موقع ملے گا۔ اپوزیشن کو بھی ہمارا ساتھ دینا چاہیے تاکہ لوٹا ہوا مال واپس لا ئیں اور ملک کو پاؤں پرکھڑاکرسکیں ۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اکیلے تحریک انصاف کا نہیں،ایئر مارشل ارشد خان ایک پروفیشنل آدمی ہیں انہیں پی آئی اے کے معاملات کو سنبھالنے کا کہا گیا ہے،ہم نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس پر ہماری تمام 100دنوں کی کارکردگی پتا چل جائے گی۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہم اپنے روز مرہ معاملات کیلئے بھی قرض کے محتاج ہیں، ہم پاکستان میں اپنا گھر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ڈاکوئوں سے پیسہ نکلے، 17تاریخ کو سپیکر صاحب نے اجلاس طلب کیا ہے۔ ، ایئرمارشل ارشد خان کو پی آئی اے کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے، ایئر مارشل ارشد خان ایک پروفیشنل آدمی ہے، پی آئی اے قرضوں میں ڈوبی جا رہی ہے، پی جس میں غریبوں کو آسان اقساط پر گھر فراہم کیے جائیں گے۔ پی آئی اے کے سی ای او کیلئے ایک پراسیس ترتیب دیا جائے گا، ایئرمارشل کو پی آئی اے کے معاملات کو سنبھالنے کا کہا گیا ہے، اسلام آباد ایئرپورٹ کا منصوبہ پر 100ارب سے زیادہ پیسہ خرچ ہوگیا، وزیراعظم نے اس منصوبے کا مکمل آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے،کابینہ نے نیب چیئرمین کو بھی ہائی پروفائل کیسز کو دیکھنے کیلئے ڈائریکٹ کرنے کا کہا ہے، کابینہ نے اس معاملات پر نیب کو تحقیقات تیز کرنے کا کہا ہے، 3ہزار افراد ای سی ایل پر ہیں، شہریارآفریدی نے قبضہ مافیا کے خلاف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، وزیراعظم نے ای سی ایل میں شامل افراد کیلئے شہریارآفریدی کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے، ان میں کوئی بے گناہ تو ملوث نہیں، ای سی ایل میں شامل بے قصوروں کا نام ہٹایا جائے، ہمارے ملک کا خسارہ 10ملین ڈالر پر ہے۔نواز شریف کی طرف سے ای سی ایل سے نام نکالنے کے حوالے سے کوئی درخواست کابینہ کو موصول نہیں ہوئی۔
وفاقی کابینہ

© Copyright 2018. All right Reserved