پیر‬‮   19   ‬‮نومبر‬‮   2018

یورپی پارلیمنٹ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرانے کے لیے فعال کردار ادا کرے،فاروق حیدر

تصویرکساتھ
اکتوبر،نومبر 1947 میں اڑھائی لاکھ بیگناہ کشمیریوں کو شہید کیا گیاجو جنگ عظیم دوئم کے بعددوسرابڑاقتل عام تھا
بھارتی فوج ایل اوسی پربھی نہتے عوام کونشانہ بناتی ہے،یورپی پارلیمینٹ ایشیا ڈیسک کی چئیرمین سےگفتگو

برسلز (پ ر)آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ نوجوانوں کو تلاشی کی کارروائیوں کے دوران گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ پیلٹ گن جیسے انسانیت سوز ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں جن سے کئی افراد کی بینائی ضائع ہو چکی اور چہرہ چھلنی ہوا۔ اپنا حق آزادی مانگنے والوں پر بھارت کی قابض فوج نے عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تعلیم صحت ، اظہار رائے سمیت تمام شخصی آزادیاں بھارتی فوج نے سلب کر رکھی ہیں۔ ایل او سی پر بسنے والے شہریوں کو بھی بھارتی فوج فائرنگ کا نشانہ بناتی ہے اور سکولوں ،ہسپتالوں ،بچوں اور خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات کشمیر ای یو ویک کے موقع پر یورپی پارلیمینٹ میں جنوبی ایشیاء ڈیسک کی چئیرمین جین لیمبرٹ سے ملاقات کے دوران کہی۔وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بین الاقوامی طور پر تسلم شدہ حق خو ارادیت مانگنے کے جرم میں بد ترین مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنی والی ایمنسٹی انٹر نیشنل ،ایشیا واچ سمیت تمام بڑے معتبر ادارے اور تنظیموں نے بھی بھارتی مظالم کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی کشمیر سے متعلق رپورٹ نے تو بھارت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذمہ دار کلی طور پر بھارتی فوج کو ٹھہرایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ آخری رپورٹ نہیں ہے بلکہ دنیا اب مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بیدار ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں قبضے سے لے کر اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے اور اس سے دو گنی تعداد کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ اکتوبر اور نومبر 1947 میں صرف چند دنوں میں اڑھائی لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیریوں کو تہہ و تیغ کیا گیا جو جنگ عظیم دوئم کے بعد دوسرا بڑا قتل عام تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں شروع ہونے والا ظلم اور جبر و استبداد آج بھی جاری ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے چپے چپے میں گمنام اور بے نام قبر یں بھارتی درندگی اور وحشت کی گواہی دے رہی ہیں۔ ان قبروں میں وہ لوگ دفن ہیں جنہیں بھارتی فوج نے گرفتار کر کے تشدد سے ہلاک کیا۔ انہوں نے جین لیمبرٹ کو بتایا کہ بھارتی فوج ایل او سی پر بھی نہتے شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بناتی ہے۔ بھارتی فوج نے حال ہی میں طالبات کی ایک وین کو نشانہ بنایا جبکہ سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانا بھارتی فوج کا معمول بن چکا ہے۔وزیراعظم نے یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے پر دلی شکریہ ادا کیا او ر اس توقع کا اظہار کیا کہ یورپی پارلیمنٹ اور اس کے ممبران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرانے اور بھارتی فوج کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کریں گے۔انہوں نے جنوبی ایشیاء کی چئیرمین کو بین الاقوامی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت بالخصوص اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ اور اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل انسانی حقوق کمیشن کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا ۔جین لیمبرٹ نے اس موقع پر وزیراعظم آزادکشمیر کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
فاروق حیدر

© Copyright 2018. All right Reserved