منگل‬‮   20   ‬‮نومبر‬‮   2018

کوہستان میں چار لڑکیاں قتل کیس کی سماعت

ڈبل
کوہستان میں چار لڑکیاں قتل کیس کی سماعت
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی سے 4ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی
اسلام آباد(نیوز ایجنسی)سپریم کورٹ میںکوہستان میں غیرت کے نام پرچار لڑکیوں کے قتل کیس میںعدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو 4ہفتوں میں تحقیقات کر کے مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں ۔کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی ۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے اور پنجاب فارنزک لیب کو ویڈیو بھیجنے کا حکم دیا تھا اس کا کیا بنا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیوں کی شناخت نہیں ہوسکی، معاملہ پشاور فارنزک لیبارٹری کو بھیجنا تاہم جدید آلات کے فقدان کے باعث سہ شناخت نہ کر سکے،بنائی گئی ویڈیو کی کوالٹی ناقص ہے، چہرے کے خد و خال واضح نہیں، 4 میں سے صرف 2 لڑکیوں کے شناختی کارڈ بنے ہوئے تھے،بازیغہ اور سرینا جان کے فنگر پرنٹس نادرا کو بھیجے،نادرا کے ڈیٹا کے ساتھ ان کے فنگر پرنٹس کی مطابقت نہیں تھی، تحقیقات میں دشواریاں ہیں،متعلقہ علاقے تک پہنچے کے لیے چھ گھنٹے کی مسافت ہے،مقامی افراد سے معلومات اکھٹی کیں تاہم ابھی تج سراغ نہیں ملا، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ پنجاب فارنزک لیب کے پاس جدید آلات ہیں،بورڈ میں دو افراد نے کہا کہ وہی لڑکیاں ہیں جنہیں قتل کیا گیا،جبکہ ایک ممبر نے مخالفت کی،پشاور فارنزک لیب کوئی نتیجہ اخذ نہ کرسکی،عدالت نے کے پی حکومت کو معاملہ کی مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ چار ہفتوں میں پیش کرنے کی ہدائیت دیتے ہوئے سماعت 4ہفتوں تک کیلئے ملتوی کر دی ہے ۔
سماعت

© Copyright 2018. All right Reserved