بدھ‬‮   21   ‬‮نومبر‬‮   2018

امریکہ مڈ ٹرم الیکشن

امریکی عوام کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی پالیسیاں رد کردیں، ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو 213 اور ری پبلکن کو 196 نشستوں پر برتری

مسلم خواتین راشدہ طلائب مشی گن اور الہان عمر منی سوٹا سے منتخب،والدین کاتعلق فلسطین وصومالیہ سے ہے،شاندارفتح ہوئی آپ سب کا شکریہ،ٹرمپ

واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں) امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن کے موقع پر امریکی عوام نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا.مڈٹرم الیکشن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کو ری پبلکن پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ ڈیموکریٹس کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی عوام کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی پالیسیاں رد کرتے ہوئے ڈیموکریٹ پارٹی کو ووٹ دیئے جس نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں ری پبلکنز سے 2نشستیں چھین لی ہیں اور ری پبلکنز کا آٹھ سالہ راج ختم کرکے اپنی حکمرانی قائم کرلی ہے۔ ایوان نمائندگان میں‌ ڈیموکریٹس 209 نشستوں کے ساتھ آگے ہیں‌، ریپبلکنز 194 سکور کے ساتھ پیچھے رہ گئے. 100 رکنی سینیٹ میں ری پبلکنز کو 51 سیٹوں‌ پر برتری اور ڈیموکریٹس43 نشستوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔ 25 ریاستوں میں ری پبلکنز اور20 میں ڈیموکریٹس گورنرز فاتح رہے.وسط مدتی انتخابات میں پہلی بار 2 مسلمان خواتین بھی منتخب ہو کر کانگریس میں پہنچ گئیں، ڈیمو کریٹس امیدوار راشدہ طلائب مشی گن اور الہان عمر منی سوٹا سے منتخب ہوئیں۔امریکہ میں مڈٹرم الیکشن کے تاحال دستیاب نتائج کے مطابق امریکی عوام نے ٹرمپ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ، کانگریس کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی 194 جبکہ ڈیموکریٹس نے 209 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ اس طرح اب تک کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں برتری حاصل ہو گئی ہے۔سینیٹ میں ری پبلکنز کو برتری حاصل ہے، 100 رکنی سینیٹ میں ری پبلکنز 8 نشستوں سے آگے ہیں، ڈیموکریٹس نے 43 نشستیں حاصل کی ہیں۔ 25 ریاستوں میں ری پبلکنز اور20 میں ڈیموکریٹس گورنرز فاتح رہے۔موجودہ انتخابات امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں، اب تک کے دستیاب نتائج کے مطابق امریکی عوام نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں ٹرمپ کے حامی بڑے برج الٹ گئے، ورجینیا سے ڈیموکریٹ امیدوار "جینیفر ویکسٹن" اور اوہائیو سے "شیرڈ براؤن سینیٹ کی نشتوں پر کامیاب ہو گئے ۔ ڈیموکریٹس نے ورجینیا اور فلوریڈا سے ری پبلکنز کی 2 نشستیں چھین لیں۔ پہلی بار 2 مسلمان خواتین بھی منتخب ہو کر کانگریس میں پہنچ گئیں، ڈیمو کریٹس امیدوار راشدہ طلائب مشی گن اور الہان عمر منی سوٹا سے منتخب ہوئیں۔کامیاب ہونے والی رکن راشدہ کے والدین فلسطینی ہیں اور وہ 14 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں، اسی طرح الہان عمر کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے، وہ اپنے ملک میں جاری سول جنگ کے دوران 8 سال کی عمر میں وہاں سے والدین کے ہمراہ فرار ہوئیں اور 4 سال تک کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم رہیں۔ورجینیا سے ڈیموکریٹ امیدوار جینیفر ویکسٹن نے ری پبلکن باربرا کامسٹوک کوشکست دے کر سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کرلی۔میڈیارپورٹس کے مطابق فلوریڈا سے ڈونا شلالا نے ایوان نمائندگی کی نشست پر ری پبلکنز کی ماریا الویرا کو شکست دے دی۔اسکینڈل میں ملوث ڈیموکریٹ امیدوار میننڈیز دوبارہ نیو جرسی سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے جبکہ انڈیانا میں ڈنلی کو شکست ہوگئی، ری پبلکنز نے ڈیموکریٹس سے سینیٹ کی ایک نشست چھین لی ۔
دوسری طرف امریکی سینیٹ میں ری پبلکنز کا راج برقرار رہا جہاں ری پبلکن پارٹی کو 51 جبکہ ڈیموکریٹس کو 46 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ ریاستوں کے 36 گورنرز کے انتخابات میں ری پبلکنز کو 25 اور ڈیموکریٹس کے 21 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ گورنرز کے الیکشن میں بھی ری پبلکنز کی 6 نشستیں ڈیموکریٹس کے پاس چلی گئی ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے باوجود ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج رات شاندار فتح حاصل ہوئی، آپ سب کا شکریہ۔ڈیموکریٹس رہنما نینسی پلوسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی آوازسنی گئی، آپ کے ووٹ سے تبدیلی آئی، کل ایک نیا امریکا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہر فیصلے پر جواب دہ ہوں گے، عوام کے درمیان تقسیم ختم کریں گے اور ایک ہونے کا وقت آگیا ہے۔
ٹرمپ جھٹکا

© Copyright 2018. All right Reserved