بدھ‬‮   21   ‬‮نومبر‬‮   2018

گومل یونیورسٹی ملازمین کااحتجاج، تعلیمی نظام درہم برہم

تین کالم ذیلیاں
ریگولر اساتذہ کا کلا سوں کا مکمل بائیکاٹ ،ں پرامن احتجاج پر ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے
گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، رجسٹرار بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں، ملازمین کا سنگین الزام

ڈیرہ اسماعیل خان( بیورورپورٹ)خیبر پختونخوا کی پرانی درسگاہ گومل یونیورسٹی کا بحران مزید شدت اختیار کرگیاگومل یونیورسٹی میں کرپشن بد عنوانیوں غیر قانونی بھرتیوں ۔ درجہ چہارم درجہ سوم ملازمین کی معطلی کے خلاف اساتذہ کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی گومل یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن گواسا کی جانب سے جاری ہڑتال کے دوران یونیورسٹی میں تدریسی نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے جبکہ انتظامیہ کنٹریکٹ اساتذہ کو اکا دکا کلاس میں ٹھہرا کر اور وینسم کالج کی کلاسوں کے فوٹو نکال کر ہڑ تال کی ناکامی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے گو اسا کی کال پر سٹی کیمپس کے تمام شعبہ جات مین کیمپس کے تمام شعبہ جات میں ریگولر اساتذہ نے کلا سوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور کسی قسم کی کلاس نہیں لی اساتذہ کا یہ کہنا ہے کہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سرور رجسٹرار دل نواز بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں پرامن احتجاج پر ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے گریڈ ایک سے سولہ تک غیر قانونی بھرتیاں کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا آج بھی یہی مطالبہ ہے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ ۔ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار یونیورسٹی کی تباہی کا نوٹس لیں اور ادارہ کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی انہوں نے مطالبہ کیا نکالے گئے درجہ چہارم اور سوم کے غریب ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے
گومل یونیورسٹی

© Copyright 2018. All right Reserved