بدھ‬‮   21   ‬‮نومبر‬‮   2018

وزیر خارجہ ،،،،،،،،،،،،،،،سینٹ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،تین کالم،،،،،،،،،،،،،،،،،،،


معاشی مضبوطی کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں‘ علماء ‘ وکلاء ‘ شہریوں اور دیگر طبقوں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا
افغانستان بارے مذاکرات جلد ہوں گے، ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر نظر رکھنا امریکہ کا دوہرا معیار ہے ، ایوان بالا میں خطاب

اسلام آباد (نیوز ایجنسی ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے چین ‘ پاکستان اور افغانستان کے مابین سہہ فریقی مذاکرات جلد ہوں گے‘ وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب اور چین کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں‘ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان اپنی کوشیں جاری رکھے گا ‘ اقتصادی راہداری کے تمام جاری منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں گے اور مستقبل میں انسانی تعمیر و ترقی ‘ ہنر مندی‘ صنعتوں کے قیام اور روزگار کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی‘ امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے باوجود ہندوستان کو تیل خریدنے کی اجازت دینا اور پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر نظر رکھنا اس کا دوہرا معیار ہے ۔ بدھ کے روز ایوان بالا کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پاکستان جس نہج پر کھڑا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو اس نہج پر پہنچانے میں کون کون ذمہ دار ہے اور یہ نوبت کیسے آئی اور جو دھائیوں سے ہم زوال پذیر ہورہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ کاش قومی اسمبلی کا ماحول بھی سینیٹ جیسا ہوجائے اگر قومی اسمبلی کا ماحول ایسا ہی چلتا رہا تو ہم پارلیمنٹرینز سے قوم کی توقعات پوری نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دورہ سعودی عرب اور چین کے بارے میں شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہئیں دونوں ممالک کے دورہ میں پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا سعودی عرب نے مشکل معاشی صورتحال میں جو امداد کا وعدہ کیا ہے اس سے معیشت میں غیر یقینی صورتحال کم ہوگئی ہے اور تین سالہ ادائیگیوں کی جو آفر کی ہے اور جو پیکج ملا ہے وہ اس میں کسی قسم کی شرائط نہیں ہیں وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین بے حد مفید رہا ہے اور چین کے ٹاپ کے چار رہنماؤں نے علیحدہ علیحدہ نشستیں کیں انہوں نے کہا کہ اس وقت چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے وسعت دینی ہے چین اور پاکستان کے مابین سٹریٹیجک بات چیت فارن منسٹر کے لیول پر ہوں اس طرح سہہ فریقی مذاکرات جس میں چین‘ افغانستان اور پاکستان کے مابین ہوگی یمن کی صورتحال سب کے سامنے ہے وزیراعظم عمران خان نے مصالحت کی بات کی ہے ہمارے معاہدوں کے بعد اگر پاکستان کے اداروں نے اپنی کارکردگی دکھائی تو چین کے ساتھ ہماری برآمدات ڈبل ہوجائیں گی۔
شاہ محمود

© Copyright 2018. All right Reserved