منگل‬‮   20   ‬‮نومبر‬‮   2018

سپرلیڈ۔۔۔۔تصحیح شدہ

سپرلیڈ۔۔۔۔تصحیح شدہ

ہنگامہ آرائی کرنے والے سینکڑوں افرادگرفتار، احتساب سے خائف عناصر کے شوروغل کی پرواہ نہیں، حکومت منشورپرعمل،امن اوامان قائم اورقانون کی حکمرانی لائے گی

یمن کے مسئلے کا فوجی حل نہیں، فریقین کو سیاسی حل پر لانے کیلئے کردار ادا کریں گے‘ وزیراعظم،یمنی سفیراوراراکین اسمبلی سے گفتگو، متروکہ وقف املاک بورڈ کافرانزک آڈٹ کرانے کاحکم


اسلام آباد(وقائع نگار ) وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پرتشدد احتجاج کے واقعات کے دوران متاثرہ افراد کی داد رسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پرعزم ہے، امن و امان کا قیام اور قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومتی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی روایت کی بنیاد رکھیں گے، احتساب سے خائف عناصر کے شوروغل سے قطع نظر حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔بعدازاںوزیراعظم عمران خان سے یمن کے سفیر محمد مطہرالعشبی نے ملاقات کی، ملاقات میں وزیراعظم نے یمن میں دیرپا امن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ یمن کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، فریقین کو سیاسی حل پر لانے کیلئے کردار ادا کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ شہریوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے جب کہ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں  کو معاوضہ پیکج تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔حالیہ احتجاج کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کے خلاف متعدد مقدمات درج کرتے ہوئے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ ادھر  وزیراعظم عمران خان نے صوابی، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ  پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پرعزم ہے، امن و امان کا قیام اور قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومتی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی روایت کی بنیاد رکھیں گے، احتساب سے خائف عناصر کے شوروغل سے قطع نظر حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نہایت مشکل مالی حالات میں حکومتی باگ دوڑ سنبھالی ہے، ہماری اولین ترجیح تھی کہ دوست ملکوں کی مدد سے اس وقت ملکی معیشت کو سہارا دیا جائے تاکہ عوام کو مشکلات سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت برآمدات کو بڑھانے کی غرض سے ایکسپورٹ انڈسٹری کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کیلئے صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی فراہمی کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے 50 لاکھ گھروں کے منصوبوں سے جہاں لوگوں کو گھروں کی سہولت میسر آئے گی وہاں معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ مختلف شہروں میں ناداروں اور بے آسرا لوگوں کو عارضی شیلٹر اور دو وقت کھانے کی سہولت فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ جن اراکین اسمبلی کے حلقوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے سروے نہیں کیا گیا وہ اس سلسلہ میں حکومت کو آگاہ کریں تاکہ ترجیحی بنیادوں پر ان علاقوں میں غربت کا سروے کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے لیکن انشاء اللہ آئندہ 6 ماہ میں واضح بہتری دیکھنے میںآئی گی، اس ملک میں بے پناہ صلاحیت ہے، ملک میں 10 کروڑ کی آبادی 35 سال سے کم عمر ہے جو اس ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں پرعزم ہے، حکومتی وزراء اپنی کارکردگی کے حوالہ سے جوابدہ ہیں، حکومتی وزرا کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی روایت اس ملک میں نہیں ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت اس روایت کی بنیاد رکھے گی، احتساب سے خائف عناصر کے شوروغل سے قطع نظر حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔  دریں اثناءوزیراعظم عمران کان سے یمن کے سفیر محمد مطہر العشبی نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں محمد مظہر العشبی نے خوشحال پاکستان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے دیرپا امن کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے تنازع کافوجی حل نہیں ہے۔ یمن کے مسئلے سے علاقائی امن واستحکام متاثر ہوا ہے۔فریقین کو سیاسی حل پر لانے کیلئے کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کی غیر متنزلزل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ منصور ہادی کی حکومت کی بحالی کیلئے حمایت جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب و زیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے متروکہ وقف املاک بورڈ میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور مالی بدانتظامی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کافرانزک آڈٹ کرایااور تمام معاملات کابینہ کے سامنے پیش کیے جائیں ان خیالات کا اظہار وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت متروکہ وقف املاک بورڈ پر تفصیلی بریفننگ کے دوران کیا گیا ہے اجلاس میں وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، سیکرٹری مذہبی امور محمد مشتاق احمد، سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ محمد طارق اور سینئر افسران کی شرکت وزیرِ اعظم کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے معاملات، متروکہ املاک کے انتظام میں ماضی میں کی جانے والی مالی و انتظامی بے قاعدگیوں پر تفصیلی بریفننگ دی گئی ہے
عمران خان


© Copyright 2018. All right Reserved