پیر‬‮   19   ‬‮نومبر‬‮   2018

آئی جی تبادلہ معاملہ، کیس کی 2 نومبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری


آئی جی تبادلہ معاملہ، کیس کی 2 نومبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری
حکم نامے میں عدالت نے جے آئی ٹی کو تحقیقات کیلئے دس ٹی او آر دے دیئے گئے
اسلام آباد ( نیوز رپورٹر ) عدالت عظمیٰ میں آئی جی اسلام آباد تبادلے ازخود نوٹس کے معاملے پر عدالت نے کیس کی 2 نومبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ 3صفحات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت نے جے آئی ٹی کو تحقیقات کیلئے دس ٹی او آر دے دیئے ہیں ، حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی اور متاثرہ خاندان کے درمیان صلح ہوچکی تاہم متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمہ تاحال زیر التوا ہے،حکم نامے میں قرار دیا گیا ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کا ممبر ہے اسے نیک پارسہ اور سچا ہونا چاہیے جبکہ بظاہر اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا،حکم نامے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اعظم سواتی رکن پارلیمنٹ بنے کے اہل ہیں؟،حکم نامے میں عدالت نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی بنا رہے ہیں جو اعظم سواتی کی بطور رکن پارلیمنٹ کی اہلیت کا جاہزہ لے گی،جے آئی ٹی 3افسران پر مشتمل ہیں جن نیب سے عرفان نعیم منگی آئی بی سے احمد رضوان اور ایف آئی اے سے میر واعظ نیاز شامل ہیں،جے آئی ٹی 25اکتوبر کے واقعے میں اعظم سواتی کے پولیس کو استعمال کرنے کے واقعے کا جائزہ لے گی،اعظم سواتی نے بطور وزیر اپنے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے افراد کو گرفتار کرایا،جے آئی ٹی ان حالات و واقعات کی بھی تحقیقات کرے جس کے تحت آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، حکم نامے میں سوال اٹھائے گئے ہیں کہ کیا آئی جی اسلام آباد کے تبادلے میں اعظم سواتی کا کردار تھا؟ کیا اعظم سواتی نے عام شہری سے ہٹ کر بطور خاص پولیس سے ٹریٹمنٹ حاصل کی؟،کیا اعظم سواتی نے گھر کے گرد سرکاری اراضی پر تجاوز کیا ہے؟

حکم نامہ جاری


© Copyright 2018. All right Reserved