اتوار‬‮   18   ‬‮نومبر‬‮   2018

وزراء کے آسیہ مسیح کے حوالے سے بیانات تبدیل ہوگئے

دو کالم
وزراء کے آسیہ مسیح کے حوالے سے بیانات تبدیل ہوگئے
حکومت آسیہ کوکسی بھی وقت بیرون ملک بھیج سکتی ہے، مذہبی جماعتوں کا خدشہ
اسلام آباد(عمرفاروق سے )کیاحکومت نے آسیہ مسیح کوبیرون ملک بھیجنے کافیصلہ کرلیاہے ؟مظاہرین سے معاہدے سے انحراف کے بعد حکومتی وزراء کے بیانات آسیہ مسیح کے حوالے سے تبدیل ہوگئے، وزیرمملکت برائے داخلہ نے کہاہے کہ آسیہ بی بی کا نام ان پر جرم ثابت ہونے تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں نہیں ڈالا جاسکتا۔آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک میں پیداہونے والی بحرانی کیفیت سنبھلنے کے بعدحکومتی وزراء کے بیانات بھی بدلنے لگے ہیں اورتحریک لبیک کی قیادت اورمظاہرین پرمقدمات قائم کرنے کے بعد ان کی گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے جس سے دینی جماعتیں اس خدشے کااظہارکررہی ہیں کہ حکومت آسیہ مسیح کوکسی بھی وقت بیرون ملک بھیج سکتی ہے اس حوالے سے ماضی میں بھی کئی مثالیں موجود ہیں کہ توہین رسالت کے الزام میں گرفتارافرادکوعدالت سے ریلیف ملنے کے بعد راتوں رات بیرون ملک بھیج دیاگیا آسیہ مسیح کانام ای سی ایل میں نہ ڈالناان شکوک میں اضافہ کررہاہے امریکی نشریاتی ادارے 'وائس آف امریکاََ کو انٹرویو کے دوران شہریار آفریدی نے کہا کہ جب تک آسیہ بی بی کو کسی الزام میں مجرم قرار نہ دیا جائے یا اس ضمن میں کوئی عدالتی حکم نہ ہو، اس وقت تک ان کا نام ای سی ایل میں کسی صورت نہیں ڈالا جاسکتا۔'انہوں نے کہا کہ 'سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل ہر کسی کا قانونی اور شرعی حق ہے اور اپیل پر عدالت عظمی جو حکم دے گی اس پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ 'آسیہ بی بی اور ان کا خاندان تاحال پاکستان میں ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے مکمل سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔
بیانات تبدیل

© Copyright 2018. All right Reserved